شادی سے قبل خون کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کے لیے قانون سازی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا مقصد تھیلیسیمیا اور سکل سیل انیمیا جیسی موروثی بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت جوڑوں کے لیے نکاح نامے کے اندراج سے قبل ان بیماریوں کی سکریننگ کروانا لازمی ہوگا۔
یہ اقدام ان طبی ماہرین کی برسوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے جو تسلسل سے یہ مؤقف اختیار کر رہے تھے کہ رضاکارانہ ٹیسٹنگ کا نظام ناکام ہو چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال ہزاروں بچے ان جینیاتی بیماریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جو نہ صرف خاندانوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ قومی صحت کے نظام پر بھی شدید بوجھ ڈالتا ہے۔
نئے قانونی مسودے کے مطابق، نکاح رجسٹرار طبی سرٹیفکیٹ کے بغیر شادی رجسٹر کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ تاہم، انسانی حقوق کے حلقوں نے رازداری کے تحفظ پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاستی سطح پر حساس طبی ڈیٹا کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا اور کیا یہ پالیسی جینیاتی خصوصیات کے حامل افراد کے لیے سماجی بدنامی کا سبب نہیں بنے گی؟
وزارتِ صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ خاندان ان تاحیات طبی بحرانوں سے محفوظ رہیں جنہیں خون کے ایک معمولی ٹیسٹ کے ذریعے پہلے ہی پہچانا جا سکتا ہے۔”
اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے درکار لاجسٹک ڈھانچہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں تک مستند لیبارٹریوں کا جال بچھانا، جہاں بروقت اور درست نتائج کی فراہمی ممکن ہو، بھاری فنڈنگ اور سخت نگرانی کا متقاضی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر جعلی طبی سرٹیفکیٹس کے اجرا کو نہ روکا گیا تو یہ قانون صرف ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔
دیگر ممالک میں اسی نوعیت کے اقدامات کے نتائج ملے جلے رہے ہیں۔ جہاں کچھ خطوں میں تھیلیسیمیا کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھی گئی، وہیں کچھ مقامات پر اسے سماجی جبر کا ذریعہ قرار دے کر شدید مخالفت کی گئی۔
یہ تجویز آئندہ ماہ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہوتا ہے تو یہ خاندانی معاملات میں ریاستی مداخلت کی ایک نئی اور متنازعہ مثال قائم کرے گا، جس کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔
