پشاور — مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر اختیار ولی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کے باعث دو مرتبہ اپنا استعفیٰ تحریر کر چکے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت اور صوبائی قیادت کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اختیار ولی کا کہنا ہے کہ صوبے کے انتظامی معاملات اور سیاسی بحرانوں نے وزیراعلیٰ کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔
"گنڈاپور اب صوبے کا انتظامی بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے،” اختیار ولی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ دو بار استعفیٰ لکھ کر رکھ چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ان کی اپنی کارکردگی پر مایوسی اور صوبے کے مالی و سیکیورٹی بحرانوں کا حل نہ نکال پانا ہے۔
تحریک انصاف نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے صوبائی ترجمانوں نے اسے "بے بنیاد پروپیگنڈا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ اپنے عہدے پر مکمل اعتماد کے ساتھ موجود ہیں اور صوبائی کابینہ کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کے لیے یہ پہلا موقع نہیں کہ اس کی داخلی صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے ہوں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے علی امین گنڈاپور کو بجلی کی لوڈشیڈنگ، وفاق کے ساتھ فنڈز کے تنازعات اور سیکیورٹی چیلنجز جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے۔
پشاور کے سیاسی حلقوں میں اس دعوے پر بحث جاری ہے۔ جہاں (ن) لیگ اسے صوبائی حکومت کی کمزوری قرار دے رہی ہے، وہیں پی ٹی آئی اسے اپنی واحد مضبوط صوبائی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش سمجھتی ہے۔
یہ الزامات کتنے درست ہیں، اس کا فیصلہ وقت کرے گا، لیکن ایک حقیقت واضح ہے کہ صوبے کے مالی بحران اور مرکز کے ساتھ جاری محاذ آرائی نے وزیراعلیٰ کے لیے حکومتی امور چلانا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔
