برسلز کے مضافاتی علاقے وولو سینٹ پیئر میں نصب ایڈی مرکس کا کانسے کا مجسمہ منگل کی صبح مسخ شدہ حالت میں پایا گیا۔ پانچ بار ٹور ڈی فرانس جیتنے والے اس عظیم سائیکلسٹ کے اعزاز میں نصب یہ یادگار بیلجیم میں عوامی مقامات پر موجود چند انتہائی محترم مجسموں میں شمار ہوتی ہے۔
صفائی کرنے والے عملے نے منگل کی صبح نقصان کی نشاندہی کی۔ مجسمے پر سرخ رنگ کا اسپرے کیا گیا تھا، جس سے لیجنڈ سائیکلسٹ کا چہرہ اور دھڑ مکمل طور پر چھپ گیا تھا۔ میونسپل حکام نے فوری طور پر صفائی کا کام شروع کر دیا، تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ پینٹ کے کیمیکل مجسمے کی دھاتی سطح کو مستقل نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
وولو سینٹ پیئر کے میئر بینوئٹ سیریخے نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بے معنی اور توہین آمیز” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مجسمہ ان شائقین کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے جو اس علاقے کا دورہ کرتے ہیں جہاں مرکس نے اپنی جوانی گزاری تھی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مجرموں کی نشاندہی کے لیے قریبی سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
برسلز میں عوامی یادگاروں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں، لیکن ایک قومی ہیرو کے مجسمے کی بے حرمتی نے مقامی آبادی کو شدید برہم کر دیا ہے۔ اناسی سالہ ایڈی مرکس آج بھی بیلجیم میں ایک قومی علامت کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں 1960 اور 70 کی دہائی میں سائیکلنگ کے مقابلوں میں ناقابل تسخیر غلبے کی وجہ سے "دی کینبل” کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
مقامی سائیکلنگ کلبوں نے لیجنڈ سائیکلسٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اس ہفتے کے آخر میں مجسمے کے مقام پر ایک چھوٹے سے اجتماع کا منصوبہ بنایا ہے۔ اگرچہ توڑ پھوڑ کے محرکات تاحال واضح نہیں، لیکن اس واقعے نے میونسپلٹی میں عوامی آرٹ کی سکیورٹی پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
فی الحال مجسمے سے رنگ صاف کر دیا گیا ہے، لیکن پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کو توقع ہے کہ ہفتے کے اختتام تک ملزمان کا سراغ لگا لیا جائے گا۔
