عمان اور متحدہ عرب امارات کے اہم صنعتی مقامات پر منگل کی صبح زور دار دھماکوں نے خطے میں جاری خفیہ تنازع میں نمایاں شدت پیدا کر دی ہے۔ یہ مربوط حملے ذخیرہ گاہوں اور ٹرانزٹ مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے، جس کے نتیجے میں بندرگاہوں کے اوپر سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
اگرچہ کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم حملوں کی درستگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والی ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جو مبینہ طور پر ایران سے منسلک پراکسی گروہوں کے ہتھیاروں سے مطابقت رکھتی ہے۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب چند گھنٹے قبل تہران نے اپنی جوہری تنصیبات پر مبینہ خفیہ کارروائیوں کے جواب میں “سخت ردعمل” کی دھمکی دی تھی۔
ان حملوں کے فوری معاشی اثرات بھی سامنے آئے۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں 4 فیصد تک بڑھ گئیں کیونکہ سرمایہ کاروں کو آبنائے ہرمز میں سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کا خدشہ لاحق ہو گیا۔ متحدہ عرب امارات اور عمان کے لیے یہ حملے ایک واضح انتباہ ہیں کہ تنازع اب یمن یا شام جیسے پراکسی میدانوں تک محدود نہیں رہا۔
علاقائی سکیورٹی تجزیہ کار مارکس تھورن نے کہا، “یہ پورے خلیج کے لیے صورتحال کو بدل دیتا ہے۔ ہم اب انکار کے قابل جھڑپوں کے مرحلے سے آگے نکل چکے ہیں۔ یہ اہم انفراسٹرکچر پر براہِ راست حملے ہیں، اور اس کا ردعمل صرف سفارتی نہیں بلکہ عسکری سطح پر ہوگا۔”
ابو ظہبی میں سول ڈیفنس ٹیموں نے جبل علی کے قریب ایک لاجسٹک ڈپو میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ حکام نے ابھی تک جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ابتدائی دھماکوں کے بعد مقامی اسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔ اسی دوران عمان میں پورٹ آف سہار، جو علاقائی تجارت کا اہم مرکز ہے، نے تحقیقات مکمل ہونے تک اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں۔
وائٹ ہاؤس نے ایک مختصر بیان میں خلیجی اتحادیوں کے لیے “غیر متزلزل حمایت” کا اعلان کیا، تاہم کسی ممکنہ فوجی اقدام کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ خطے میں صورتحال پر خاموش تشویش پائی جاتی ہے۔ تہران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “مغربی میڈیا کی من گھڑت کہانیاں” قرار دیا ہے، تاہم علاقائی دارالحکومتوں میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
جیسے جیسے خلیج پر سورج غروب ہو رہا ہے، علاقائی رہنماؤں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آیا اگلا حملہ ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ کہ وہ اپنی سرحدوں کو اگلے ممکنہ حملے سے پہلے کیسے محفوظ بنائیں گے۔
