امریکا میں تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ بزرگ افراد کو سب سے زیادہ ضرورت صرف علاج کی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں مدد اور طویل مدتی نگہداشت کی سہولتوں کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق لاکھوں بزرگ افراد کو نہانے، کپڑے پہننے، کھانا کھانے اور ادویات لینے جیسے بنیادی کاموں میں مشکلات پیش آتی ہیں، مگر موجودہ نظام میں ان ضروریات کو مکمل طور پر پورا نہیں کیا جا رہا۔
ایک بڑی مشکل اخراجات اور سہولتوں کی دستیابی ہے۔ گھر پر دیکھ بھال، اسسٹڈ لیونگ یا نرسنگ ہوم جیسی خدمات بہت مہنگی ہیں، جبکہ زیادہ تر بزرگوں کے پاس اس کے لیے مناسب انشورنس نہیں ہوتی۔ میڈی کیئر عام طور پر طویل مدتی نگہداشت کے اخراجات پورے نہیں کرتا، جس کی وجہ سے خاندانوں پر مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، دیکھ بھال کرنے والے افراد کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ہوم ہیلتھ ایڈز اور کیئر ورکرز کی مانگ بڑھ رہی ہے، مگر کم تنخواہوں اور زیادہ دباؤ کی وجہ سے اس شعبے میں افراد کی کمی ہے۔ نتیجتاً، بہت سے خاندان اپنے بزرگوں کی دیکھ بھال خود کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ان پر ذہنی اور مالی دباؤ بڑھتا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بزرگ افراد کو زیادہ سے زیادہ اپنے گھروں میں رہنے کا موقع دیا جائے، جسے “aging in place” کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے گھریلو سہولتوں میں بہتری، مقامی کمیونٹی سپورٹ، اور سستی نگہداشت کی خدمات ضروری ہیں۔
یہ مسئلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب صرف لمبی عمر کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ بزرگ افراد کو باوقار، خودمختار اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کیا جائے۔
