لاہور ہائی کورٹ نے علی ظفر کی جانب سے دائر طویل عرصے سے جاری ہتکِ عزت کیس میں میشا شفیع کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو صرف 50 لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی کی حد تک معطل کر دیا ہے۔ تاہم عدالت نے میشا شفیع پر علی ظفر کے خلاف ہراسانی کے الزامات دہرانے سے متعلق پابندی برقرار رکھی ہے۔
عدالت نے یہ ریلیف بعض شرائط کے ساتھ دیا۔ میشا شفیع کو ہدایت کی گئی کہ وہ 25 لاکھ روپے نقد عدالت میں جمع کرائیں اور باقی 25 لاکھ روپے کے لیے ضمانتی مچلکہ فراہم کریں۔ اس سے واضح ہے کہ ہرجانے کی ادائیگی پر معطلی مکمل اور غیر مشروط نہیں ہے۔
یہ مقدمہ اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا تھا جب 31 مارچ 2026 کو سیشن عدالت نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد میشا شفیع نے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
تازہ عدالتی حکم کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال فیصلے کا مالی حصہ مخصوص شرائط کے ساتھ روک دیا گیا ہے، جبکہ غیر مالی پابندی بدستور برقرار ہے۔ دوسرے لفظوں میں، میشا شفیع کو مکمل نہیں بلکہ محدود نوعیت کا ریلیف ملا ہے۔
