حکومت نے 14 اگست کے موقع پر عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔ نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد پیٹرول 260 روپے 40 پیسے فی لیٹر پر فروخت ہوگا۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 13 روپے 50 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 258 روپے 10 پیسے مقرر کی گئی ہے۔
یہ فیصلہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آنے والی گراوٹ کے بعد کیا گیا۔ وزارت خزانہ پر طویل عرصے سے دباؤ تھا کہ عالمی سطح پر قیمتیں کم ہونے کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچایا جائے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ اقدام یومِ آزادی کے موقع پر مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے ایک علامتی ریلیف ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے رجحانات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد قومی دن کے موقع پر شہریوں کے سفری اخراجات میں کچھ کمی لانا ہے۔”
اگرچہ پیٹرول کی قیمت میں یہ کمی عام آدمی کے لیے خوش آئند ہے، لیکن ماہرینِ معاشیات اس حوالے سے محتاط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کا انحصار صوبائی حکومتوں کی سخت نگرانی پر ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ایندھن سستا ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے اپنی جگہ پر برقرار رہتے ہیں، جس کی وجہ سے عام صارف کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔
ملک میں مہنگائی کی موجودہ شرح کو دیکھتے ہوئے، ایندھن کی قیمتوں میں یہ کمی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر کتنا اثر ڈالے گی، یہ ابھی واضح نہیں۔ کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات کم ہونے سے سبزیوں اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گنجائش تو پیدا ہوتی ہے، لیکن منافع خور مافیا کی موجودگی اس ریلیف کو ناکام بنا سکتی ہے۔
حکومت کے لیے یہ فیصلہ ایک توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ ایک طرف زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ بنانا ضروری ہے، تو دوسری طرف عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کم کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر کر دیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ ریلیف صرف نجی گاڑیوں کے مالکان تک محدود رہے گا یا عام شہری بھی اس سے مستفید ہو سکیں گے۔
