کوئٹہ — صوبائی دارالحکومت کے مصروف ترین کاروباری مرکز پٹیل روڈ پر منگل کی شام دستی بم کے حملے میں ایک شہری ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔
دھماکہ ایسے وقت میں ہوا جب بازار میں خریداروں کا رش عروج پر تھا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا۔
ایس ایس پی آپریشنز نے جائے وقوعہ پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے بازار میں دستی بم پھینکا اور فرار ہو گئے۔ انہوں نے ایک شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی، جبکہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ابھی تک کسی کالعدم تنظیم یا گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یہ واقعہ کوئٹہ کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال میں ایک اور سنگین اضافہ ہے، جہاں ایسے حملے اکثر گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
پٹیل روڈ کے مکینوں کے لیے یہ دھماکہ شہر کی غیر مستحکم سیکیورٹی صورتحال کا ایک تکلیف دہ یاد دہانی ہے۔ معمول کی کاروباری سرگرمیاں جو رات گئے تک جاری رہتی تھیں، دھماکے کے فوری بعد بند ہو گئیں اور دکانداروں نے اپنی دکانیں مقفل کر لیں۔
پولیس حکام کے مطابق تفتیشی ٹیمیں قریبی عمارتوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر رہی ہیں تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آوروں نے شام کے رش کا فائدہ اٹھایا اور شہر کے مضافاتی علاقوں کی جانب فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
صوبائی حکومت نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ضلعی پولیس کو سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ اس وقت لواحقین ہسپتال میں اپنے پیاروں کی حالت کے بارے میں فکر مند ہیں، جبکہ شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
