نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کے قومی امتحانی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام حالیہ برسوں میں پیپر لیک ہونے کے واقعات اور نظام کی ناکامیوں پر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی تھی کہ وہ تعلیمی اداروں میں بدعنوانی کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
نئی کمیٹی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کا ساکھ بحال کرنا ہے۔ NEET-UG اور UGC-NET جیسے اہم امتحانات میں دھاندلیوں کے الزامات کے بعد لاکھوں طلبہ کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔
حکومت جہاں اصلاحات کا دعویٰ کر رہی ہے، وہیں دارالحکومت میں احتجاج کے نشانات مٹائے جا رہے ہیں۔ منگل کی صبح میونسپلٹی کے اہلکاروں نے دہلی کے جنتر منتر پر لکھی گئی حکومت مخالف نعرے بازی کو مٹا دیا اور احتجاجی بینرز ہٹا دیے۔ یہ مقام گزشتہ کئی دنوں سے طلبہ کے احتجاج کا مرکز بنا ہوا تھا۔
حکومت کے اس اقدام پر ناقدین کا کہنا ہے کہ دیواریں صاف کرنے سے نظام ٹھیک نہیں ہوگا۔ ایک احتجاجی طالب علم نے کہا، "وہ دیواریں اس لیے صاف کر رہے ہیں کیونکہ وہ خود کو بے نقاب ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔” اپوزیشن جماعتوں نے اسے محض ایک سطحی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے تب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا جب تک ملک بھر میں طلبہ سڑکوں پر نہیں نکلے۔
کمیٹی کو این ٹی اے کے آپریشنل ڈھانچے، ڈیٹا سیکیورٹی اور اعلیٰ عہدیداروں کی تعیناتی کے عمل کا مکمل جائزہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اگرچہ حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اصلاحات شفافیت لائیں گی، لیکن ماضی میں اس طرح کی کمیٹیوں کی سفارشات اکثر بیوروکریسی کی نذر ہوتی رہی ہیں۔
سرکار اس امید پر ہے کہ ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں سے درمیانے طبقے کے غصے کو ٹھنڈا کیا جا سکے گا۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلیاں صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہیں گی یا امتحانی مراکز تک بھی پہنچیں گی۔ فی الحال، ان ہزاروں طلبہ کے لیے جن کا ایک تعلیمی سال ضائع ہو رہا ہے، یہ حکومتی وعدے کسی تسلی سے خالی ہیں۔
