پیرس/میڈرڈ — فرانس اور اسپین کے سرحدی علاقوں میں شدید گرمی کی لہر اور تیز ہواؤں نے جنگلات میں لگی آگ کو بے قابو کر دیا ہے۔ بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہونے کے بعد امدادی ٹیموں کے لیے آگ پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
فرانس کے جنوبی علاقے ‘گارڈ’ میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہزاروں ہیکٹر رقبہ جل کر راکھ ہو چکا ہے۔ مقامی سطح پر چلنے والی تیز ہوائیں، جنہیں ‘مسٹرل’ کہا جاتا ہے، معمولی چنگاریوں کو بھی شعلوں میں تبدیل کر رہی ہیں۔ آگ کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اس نے حفاظتی لائنوں کو عبور کر لیا ہے، جس کے باعث کئی دیہاتوں کو خالی کروانا پڑا ہے۔ فائر فائٹرز کا کہنا ہے کہ آگ کے پھیلاؤ کی رفتار ان کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔
اسپین کے علاقے کاتالونیا میں صورتحال اس سے مختلف نہیں۔ پیرینیز کے پہاڑی سلسلے کے قریب لگی آگ سورج نکلنے کے بعد سے دوگنا ہو چکی ہے۔ مہینوں کی خشک سالی کے باعث جنگلات میں سوکھی ہوئی جھاڑیاں ایندھن کا کام کر رہی ہیں۔ اسپین کی ایمرجنسی سروسز نے خصوصی فورسز کو تعینات کیا ہے، تاہم ناہموار اور دشوار گزار پہاڑی راستے بھاری مشینری کی نقل و حرکت میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
دونوں ممالک میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ (107 ڈگری فارن ہائیٹ) سے تجاوز کر چکا ہے۔ ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی اور ہوا کے دباؤ کے ٹکراؤ سے مقامی سطح پر ‘فائر ٹورنیڈوز’ (آگ کے بگولے) بن رہے ہیں، جس سے شعلوں کی سمت کا اندازہ لگانا ناممکن ہو گیا ہے۔
فرانسیسی سول سیکیورٹی کے ایک آپریشن کمانڈر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ "ہم صرف آگ سے نہیں لڑ رہے، ہم وقت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہوا کا رخ ہر بیس منٹ میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اگر ہم نے رات ہونے سے پہلے اس کی رفتار نہ توڑی تو آنے والے دن مزید مشکل ثابت ہوں گے۔”
دونوں حکومتوں نے شہری مراکز سے وسائل کو متاثرہ علاقوں کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ اسپین میں فوج کی ‘ایمرجنسی ملٹری یونٹ’ کو شہریوں کے انخلاء میں مدد کے لیے طلب کیا گیا ہے، جبکہ فرانس میں تیز ہواؤں کے باعث فائر فائٹنگ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی محدود کر دی گئی ہیں کیونکہ ہوا کے تیز جھونکے پائلٹس کی حفاظت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ان علاقوں کے مکینوں کے لیے یہ صورتحال گزشتہ برسوں کی یاد تازہ کر رہی ہے، تاہم آگ کی موجودہ شدت یورپی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو بری طرح آزما رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں تک درجہ حرارت میں کمی کا کوئی امکان نہیں، جس کے باعث امدادی ٹیموں کی ترجیح صرف رہائشی آبادیوں کو محفوظ بنانا ہے۔
