بائیڈن انتظامیہ نے وینزویلا کے 17 تیل کے کنوؤں (آئل فیلڈز) کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے محدود لائسنس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام عالمی توانائی کی منڈی میں بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے اور وینزویلا کی تباہ حال معیشت کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش ہے۔
واشنگٹن کا یہ فیصلہ اچانک نہیں آیا۔ امریکی توانائی کمپنیوں کی جانب سے طویل عرصے سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وینزویلا کے وسیع ذخائر تک رسائی دی جائے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اب ان کمپنیوں کو اجازت دے دی ہے کہ وہ ریاستی آئل کمپنی ‘پی ڈی وی ایس اے’ کے ساتھ مل کر کام کر سکیں۔
تاہم، یہ اجازت نامے کسی ‘بلینک چیک’ کی طرح نہیں ہیں۔ امریکہ نے سخت شرائط عائد کی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی حکومتی عہدیداروں کی جیبوں میں نہ جائے، بلکہ اسے قرضوں کی ادائیگی اور تیل نکالنے والے انفراسٹرکچر کی بحالی پر خرچ کیا جائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے امریکہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرے۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ ان 17 فیلڈز کو کھولنے کا مقصد عالمی سپلائی میں اضافہ کرنا ہے، لیکن اس کا مطلب پابندیوں کا مکمل خاتمہ ہرگز نہیں ہے۔
زمینی حقائق البتہ اتنے سادہ نہیں۔ وینزویلا کا تیل نکالنے کا نظام برسوں کی بدانتظامی، بجلی کے بحران اور ماہر انجینئرز کے ملک چھوڑ جانے کے باعث بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کنوؤں کو دوبارہ مکمل پیداواری صلاحیت پر لانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور کئی سال درکار ہوں گے۔
سیاسی سطح پر یہ فیصلہ کانٹے دار ہے۔ امریکی کانگریس میں کچھ حلقے اسے مادورو حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ یہ ایک عملی قدم ہے جس کا مقصد توانائی کی سکیورٹی اور وینزویلا میں جمہوری عمل کی بحالی کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
اب اصل امتحان ان کمپنیوں کا ہے جنہیں یہ لائسنس ملے ہیں۔ کیا وہ وینزویلا کے بوسیدہ انفراسٹرکچر اور وہاں کی غیر یقینی سیاسی صورتحال میں کام کرنے کی ہمت جٹا پائیں گی؟ اس کا جواب آنے والے چند مہینوں میں مل جائے گا جب ان فیلڈز سے پیداوار کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔
