دہلی کی ایک عدالت نے گزشتہ برس پیش آنے والے ہلاکت خیز چاقو زنی کے واقعے میں ‘انمول’ عرف ‘پنکی’ پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ اس قانونی پیش رفت نے اس کیس میں ایک اہم موڑ پیدا کر دیا ہے، جو گزشتہ کئی ماہ سے گواہوں کے متضاد بیانات اور پولیس کی مختلف شاخوں کے درمیان دائرہ اختیار کے تنازعات کی نذر تھا۔
ایڈیشنل سیشن جج سنجے شرما کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں پنکی پر قتل اور مجرمانہ سازش کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔ استغاثہ کا موقف ہے کہ پنکی نے مقامی علاقے پر قبضے کے تنازع کے بعد اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ دوسری جانب، دفاعی وکلاء کا اصرار ہے کہ واقعہ کے وقت ملزم جائے وقوعہ سے میلوں دور تھا۔
متاثرہ خاندان کے لیے یہ قانونی عمل ایک صبر آزما امتحان رہا ہے۔ پچھلے چودہ ماہ کے دوران انہیں کبھی تاریخوں کے التوا تو کبھی تفتیشی افسران کی اچانک تبدیلیوں کا سامنا رہا۔ اگرچہ فرد جرم عائد ہونا انصاف کی جانب ایک قدم ہے، لیکن لواحقین کو اب بھی عدالتی کارروائی کی سست رفتاری پر تشویش ہے۔
عدالت کے باہر متاثرہ شخص کے بھائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم ایک سال سے انصاف کے وعدے سن رہے ہیں۔ فرد جرم عائد ہونا ایک شروعات تو ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہ ثبوت ان کے مہنگے وکلاء کے سامنے ٹک پائیں گے۔”
استغاثہ کے پاس سب سے مضبوط ثبوت قریبی پیٹرول پمپ سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے، جس میں مبینہ طور پر پنکی کو موٹر سائیکل پر فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ دفاعی وکیل وکرام سنگھ نے اس ڈیجیٹل ریکارڈ کی صداقت کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تفتیش کے ابتدائی مراحل میں ٹائم اسٹیمپس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔
جج نے دفاع کی جانب سے کیس خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سائبر سیل کی فرانزک رپورٹ نے ویڈیو کی اصلیت کی تصدیق کر دی ہے۔ اب عدالت نے اگلے ماہ مرکزی فرانزک تفتیش کار پر جرح کی تاریخ مقرر کی ہے۔
یہ کیس نہ صرف اپنی نوعیت کی سفاکی بلکہ شہر کے سست عدالتی نظام کی عکاسی کے باعث بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ فرد جرم عائد ہونے کے بعد، اب استغاثہ کو رواں ہفتے کے اختتام تک گواہوں کی حتمی فہرست عدالت میں جمع کرانی ہوگی۔
مجرم ثابت ہونے پر پنکی کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ کیس کی اگلی سماعت ۱۲ نومبر کو ہوگی، جس میں ٹرائل کے حتمی شیڈول کا اعلان متوقع ہے۔
