واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو عارضی طور پر ایسے تارکینِ وطن کو تیسرے ممالک میں بھیجنے کی اجازت دے دی ہے جو ان کے آبائی ممالک نہیں ہیں۔ عدالت نے اس معاملے پر تفصیلی سماعت دسمبر 2026 میں کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے 29 ستمبر کے حکم کے مطابق میساچوسٹس کی ضلعی عدالت کا 25 فروری 2026 کا فیصلہ معطل کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں حکومت کو تیسرے ممالک میں بے دخلی کی پالیسی دوبارہ نافذ کرنے کی عارضی اجازت مل گئی۔
یہ پالیسی ایسے تارکینِ وطن کی بے دخلی سے متعلق ہے جنہیں ان کے اپنے ملک کے بجائے کسی دوسرے ملک بھیجا جاتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس پالیسی کے تحت 25 ہزار سے زیادہ تارکینِ وطن کو 29 تیسرے ممالک بھیجا جا چکا ہے، جن میں میکسیکو سمیت کئی دیگر ممالک شامل ہیں۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی ملک سے ایسے افراد کو نکالنے کے لیے ضروری ہے جنہیں امریکا میں رہنے کی اجازت نہیں، جبکہ انسانی حقوق اور تارکینِ وطن کے حقوق کی تنظیمیں اس پالیسی پر اعتراض کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو ایسے ممالک بھیجا جا سکتا ہے جہاں انہیں ظلم، تشدد یا دیگر خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
سپریم کورٹ دسمبر میں یہ بھی جائزہ لے گی کہ تیسرے ممالک میں بے دخلی سے متعلق حکومتی رہنما اصول امریکی امیگریشن قانون، آئینی قانونی تقاضوں اور تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کرنے والے قوانین سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔
سپریم کورٹ کے حکم میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس سونیا سوٹومےئر، جسٹس ایلینا کیگن اور جسٹس کیتانجی براؤن جیکسن نے حکومت کی درخواست پر عارضی حکم جاری کرنے کی مخالفت کی۔
یہ معاملہ دسمبر میں سپریم کورٹ کے سامنے باقاعدہ دلائل کے بعد مزید واضح ہوگا، جبکہ موجودہ حکم مقدمے کے حتمی فیصلے تک پالیسی پر عارضی طور پر عمل درآمد کی اجازت دیتا ہے۔
