اسلام آباد: وفاقی پاور ڈویژن نے بجلی صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ جعلی سبسڈی لنکس، غیر مصدقہ ویب سائٹس اور مشکوک QR کوڈ پیغامات پر ہرگز بھروسا نہ کریں، کیونکہ فراڈیے سرکاری سبسڈی اسکیم کے نام پر صارفین کی ذاتی معلومات چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وارننگ 22 مئی 2026 کو سامنے آئی، جب حکام نے بتایا کہ بعض عناصر خود کو سرکاری عمل کا حصہ ظاہر کر کے لوگوں کو جعلی لنکس کے ذریعے پھانس رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق فراڈ کا طریقہ کافی سیدھا مگر خطرناک ہے۔ صارفین کو ایک لنک بھیجا جاتا ہے یا کہا جاتا ہے کہ وہ سبسڈی کی تصدیق کے لیے مخصوص آن لائن فارم پُر کریں، پھر ان سے ذاتی کوائف اور آخر میں چھ ہندسوں پر مشتمل ویریفکیشن کوڈ مانگا جاتا ہے۔ پاور ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ ایسے غیر رسمی یا غیر مصدقہ پلیٹ فارمز پر معلومات دینا صارفین کو مالی اور ڈیجیٹل نقصان سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ تنبیہ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب حکومت نے حال ہی میں بجلی کے سبسڈی نظام میں شفافیت بڑھانے کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرایا تھا۔ اس نظام کے تحت اہل صارفین کے بجلی بلوں پر سبسڈی کی رقم واضح طور پر درج کی جا رہی ہے اور بعض معاملات میں QR کوڈ کے ذریعے رجسٹریشن یا تصدیق کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف یہ رہا کہ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سبسڈی واقعی مستحق گھرانوں تک پہنچے اور اس میں بدعنوانی یا غلط استعمال کم ہو۔
اسی وجہ سے یہ فراڈ نسبتاً زیادہ مؤثر دکھائی دیتا ہے۔ جب صارفین کو اصل بل پر کیو آر کوڈ نظر آتا ہے اور پھر بعد میں کسی لنک یا پیغام کے ذریعے “تصدیق” کا کہا جاتا ہے، تو بہت سے لوگ اسے سرکاری عمل کا حصہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہی وہ الجھن ہے جس سے جعلساز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اصل مسئلہ صرف ایک جعلی لنک نہیں بلکہ ایک ایسا دھوکا ہے جو حقیقی سرکاری نظام کی نقل کر کے اعتماد حاصل کرتا ہے۔
سرکاری سطح پر جس پلیٹ فارم کا ذکر کیا گیا ہے، وہ CSS PITC پورٹل ہے، جو کم آمدن اور مستحق گھرانوں کے لیے کراس سبسڈی پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس پس منظر میں پاور ڈویژن نے صارفین کو ہدایت دی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں اور اگر بل، سبسڈی یا رجسٹریشن سے متعلق کوئی شبہ ہو تو اپنی متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی کے تصدیق شدہ چینلز سے رابطہ کریں۔
توانائی کے شعبے کے مبصرین کے نزدیک یہ معاملہ صرف سائبر فراڈ کا نہیں بلکہ عوامی آگاہی کا بھی ہے۔ پاکستان میں اس نوعیت کے بہت سے دھوکے تکنیکی مہارت سے زیادہ عوامی الجھن پر انحصار کرتے ہیں۔ کوئی صارف بل دیکھتا ہے، اس پر سبسڈی کی تفصیل پڑھی جاتی ہے، کیو آر کوڈ دکھائی دیتا ہے، پھر موبائل پر ایک پیغام آ جاتا ہے — اور یوں جعلی اور اصلی عمل میں فرق دھندلا جاتا ہے۔ پاور ڈویژن کی تازہ وارننگ دراصل اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے۔
صارفین کے لیے فوری پیغام یہی ہے: ہر QR کوڈ یا ہر موصول ہونے والا لنک سرکاری نہیں ہوتا۔ سبسڈی کی تصدیق یا رجسٹریشن کے نام پر کسی بھی غیر معروف ویب سائٹ پر اپنی معلومات، شناختی تفصیلات یا ویریفکیشن کوڈ درج کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہے۔ بظاہر حکومت اب صرف سبسڈی کی شفاف تقسیم ہی نہیں بلکہ اس سے جڑے ڈیجیٹل فراڈ سے بچاؤ کو بھی ایک اہم چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
