اسلام آباد: وفاقی پاور ڈویژن نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کو ہدایت دی ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ کے 1,355 زیرِ التوا کیسز 10 دن کے اندر نمٹائے جائیں۔ رپورٹوں کے مطابق اس عمل کی تکمیل کے لیے یکم جون 2026 کی ڈیڈ لائن رکھی گئی ہے، جبکہ تاخیر کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور کارکردگی سے جڑی مراعات متاثر ہونے کا اشارہ بھی دیا گیا ہے۔
یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں چھتوں پر لگے سولر سسٹمز کی مانگ تیزی سے بڑھی ہے، مگر درخواست گزاروں کو منظوری، انسپیکشن اور کنکشن کے مراحل میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا رہا۔ مسئلہ صرف دفتری سستی کا نہیں۔ بہت سے صارفین پہلے ہی لاکھوں روپے خرچ کر کے سولر پینل اور انورٹر نصب کرا چکے ہوتے ہیں، اس لیے نیٹ میٹرنگ میں تاخیر براہِ راست ان کی بچت اور سرمایہ کاری دونوں کو متاثر کرتی ہے۔
اس خبر کی اہمیت صرف اتنی نہیں کہ ایک بیک لاگ صاف کرنے کا حکم آیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان میں سولر پالیسی پر جاری بحث کے بیچ آیا ہے۔ نیپرا کے پروزیومر ریگولیشنز 2025 نے پرانے 2015 کے نیٹ میٹرنگ ضوابط کو منسوخ کر کے نیا فریم ورک نافذ کیا، جس کے بعد گھریلو اور کمرشل سولر صارفین میں بے چینی بڑھ گئی تھی۔ سرکاری مؤقف یہ رہا کہ نئے قواعد سے گرڈ پر مالی دباؤ کو قابو کیا جائے گا، جبکہ ناقدین کہتے ہیں کہ تیز رفتار پالیسی تبدیلیاں صارفین کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
حکومت نے اس سے پہلے یہ وضاحت بھی کی تھی کہ 8 فروری سے پہلے جمع کرائی گئی درخواستیں پرانے نسبتاً سازگار قواعد کے تحت پروسیس کی جائیں گی۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ عوامی ردِعمل کے بعد سامنے آیا تھا، تاکہ ایسے درخواست گزار متاثر نہ ہوں جنہوں نے پرانی پالیسی کے تحت سرمایہ کاری کی تھی۔ اسی تناظر میں تازہ حکم کو ایک طرح سے انتظامی اصلاح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے: پالیسی پر بحث اپنی جگہ، لیکن زیرِ التوا درخواستوں کو غیر معینہ مدت تک نہیں روکا جا سکتا۔
توانائی کے شعبے کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان اب عملدرآمد کا ہے۔ پاکستان کے پاور سیکٹر میں ہدایات اور ڈیڈ لائنز نئی بات نہیں، مگر نتیجہ اکثر کمزور رہتا ہے۔ اس بار اگر ڈسکوز واقعی 10 دن میں کیسز نمٹا دیتی ہیں تو اس سے نہ صرف ہزاروں صارفین کو ریلیف ملے گا بلکہ سولر سیکٹر کو یہ اشارہ بھی جائے گا کہ پالیسی تبدیلیوں کے باوجود منظوری کا نظام مکمل طور پر جام نہیں ہوا۔
دوسری طرف، یہ پیش رفت اس وسیع تر سوال کو ختم نہیں کرتی کہ پاکستان میں سولر نیٹ میٹرنگ کا مستقبل کس سمت جا رہا ہے۔ نئی ریگولیشنز کے بعد حکومت، نیپرا، ڈسکوز اور صارفین کے درمیان توازن کا معاملہ ابھی پوری طرح طے نہیں ہوا۔ لیکن فوری سطح پر پاور ڈویژن کا پیغام واضح دکھائی دیتا ہے: زیرِ التوا درخواستوں پر تاخیر مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔
