اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو معدنیات، کان کنی، پروسیسنگ اور برآمدات سمیت اہم شعبوں میں ہر ممکن سہولت دی جائے گی۔
وزیرِ اعظم نے یہ بات اسلام آباد میں چینی کمپنی ایم سی سی ٹونگسن ریسورسز کے چیئرمین وانگ جی چینگ سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں کمپنی نے پاکستان کے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی اور ملک میں منرل پارک کے قیام سے متعلق اپنی تجاویز سے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا۔
شہباز شریف نے چینی کمپنی کی دلچسپی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس معدنی وسائل کی بڑی صلاحیت موجود ہے، تاہم اصل فائدہ اسی وقت ہوگا جب خام مال کی صرف نکاسی کے بجائے اس کی مقامی سطح پر پروسیسنگ، تیاری اور برآمد کو فروغ دیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کاروباری عمل کو آسان بنانے، رکاوٹیں کم کرنے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے سرکاری سطح پر مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے متعلقہ وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ وہ چینی کمپنی کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ، صوبائی محکموں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے، کیونکہ بلوچستان پاکستان کے معدنی وسائل کے حوالے سے انتہائی اہم صوبہ سمجھا جاتا ہے۔
شہباز شریف نے چین کو پاکستان کا دیرینہ دوست اور ترقیاتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشکل وقت میں چین کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے چینی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے، برآمدات بڑھانے اور بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں کر رہا ہے۔ حکومت کی توجہ خاص طور پر ایسے شعبوں پر ہے جہاں مقامی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے روزگار، صنعت اور برآمدی آمدن میں اضافہ کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا معدنیات کا شعبہ بڑی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن پالیسی تسلسل، انفراسٹرکچر، سیکیورٹی اور ریگولیٹری عمل میں آسانی جیسے معاملات سرمایہ کاروں کے لیے اب بھی اہم چیلنج ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اب سرمایہ کاروں کو براہِ راست سہولت دینے اور منصوبوں کو تیزی سے عملی شکل دینے پر زور دے رہی ہے۔
