وفاقی حکومت اور آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے درمیان منگل کو ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے، جس کے بعد ملک بھر میں ایندھن کی ترسیل میں خلل کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ دونوں فریقین نے دو ہفتوں کے اندر درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا جب ہڑتال کی دھمکیوں نے عوام اور صنعت کاروں میں تشویش پیدا کر دی تھی۔ اگر ٹینکرز کا پہیہ رک جاتا تو ملک بھر کے پٹرول پمپس خشک ہونے کا خدشہ تھا، جس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ اور معاشی سرگرمیوں پر پڑتا۔
معاہدے کے تحت، نئی کمیٹی ٹینکرز ایسوسی ایشن کے بنیادی مطالبات کا جائزہ لے گی۔ ان مطالبات میں ٹیکس کا ڈھانچہ، صوبائی سطح پر درپیش رکاوٹیں، اور ہائی ویز پر حفاظتی اقدامات کے نام پر عائد بھاری جرمانے شامل ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے حکام بدھ سے ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ باقاعدہ نشستوں کا آغاز کریں گے۔
مذاکرات کے بعد ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ "ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ہمارے تحفظات کو محض سنا نہیں جائے گا بلکہ ایک طے شدہ مدت میں حل بھی کیا جائے گا۔” انہوں نے واضح کیا کہ ہڑتال معطل کر دی گئی ہے، تاہم ان کا اگلا لائحہ عمل حکومتی اقدامات پر منحصر ہوگا۔
دوسری جانب حکومتی مذاکرات کاروں کے لیے یہ معاملہ کسی آزمائش سے کم نہیں۔ ایک طرف ٹینکر مالکان کا دباؤ ہے تو دوسری طرف سڑکوں پر حفاظتی معیارات کی پاسداری کا چیلنج، جس پر قومی شاہراہوں پر ہونے والے حادثات کے بعد وزارتِ توانائی کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، غیر ضروری انتظامی بوجھ کم کیا جائے گا مگر حفاظتی پروٹوکولز پر سختی برقرار رہے گی۔
دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن نے حکومت کو ایک سخت ٹائم فریم میں جکڑ دیا ہے۔ اگر اس مدت کے دوران کمیٹی کسی ٹھوس لائحہ عمل تک نہ پہنچ سکی، تو ایسوسی ایشن نے دوبارہ ہڑتال کا آپشن کھلا رکھا ہے۔
فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ یہ کمیٹی واقعی مسائل کا دیرپا حل نکال پائے گی یا یہ وقت گزارنے کی ایک اور کوشش ثابت ہوگی، اس کا فیصلہ آئندہ 14 دنوں میں ہونے والی پیش رفت سے ہوگا۔
