انگلینڈ کے علاقے ہرٹ فورڈ شائر میں واقع ‘روتھم سٹیڈ ریسرچ’ دنیا کے قدیم ترین جاری ماحولیاتی تجربے کا مرکز ہے۔ سن 1856 سے جاری ‘پارک گراس’ نامی اس تجربے نے دو عالمی جنگیں، زرعی پالیسیوں میں ڈرامائی تبدیلیاں اور بدلتی ہوئی آب و ہوا کے اثرات دیکھے ہیں، مگر یہ سلسلہ آج بھی قائم ہے۔
وکٹورین دور میں شروع ہونے والی یہ تحقیق بنیادی طور پر اس مقصد کے لیے تھی کہ کھاد کا فصلوں کی پیداوار پر کیا اثر پڑتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک وسیع ڈیٹا بیس میں تبدیل ہو چکی ہے جو حیاتیاتی تنوع اور مٹی کی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔
سائنسی تحقیق عموماً تین سے پانچ سال تک محدود رہتی ہے، اکثر فنڈز ختم ہوتے ہی کام رک جاتا ہے۔ روتھم سٹیڈ کی انفرادیت اس کا تسلسل ہے۔ 170 سال تک ایک ہی زمین کے ٹکڑوں پر مسلسل مشاہدے نے ان طویل مدتی تبدیلیوں کو ریکارڈ کیا ہے جنہیں مختصر مدت کے تجربات پکڑنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ماہرین نے دیکھا کہ کس طرح مٹی کی تیزابیت اور غذائی اجزاء میں تبدیلی سے گھاس کی مخصوص اقسام پھلتی پھولتی ہیں یا معدوم ہو جاتی ہیں۔
ابتدا میں اس تحقیق کا مقصد بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے زرعی پیداوار میں اضافہ تھا۔ آج، یہ ڈیٹا ہمیں زمین کی کیمسٹری میں انسانی مداخلت کی کہانی سنا رہا ہے۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بارش کے بدلتے پیٹرن کے ردعمل میں پودوں کی انواع کس طرح اپنی جگہ تبدیل کر رہی ہیں۔
تجرباتی پلاٹس کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے؛ کچھ کو نائٹروجن دی جاتی ہے، کچھ کو فاسفورس، اور کچھ کو کسی بھی قسم کی کھاد سے دور رکھا جاتا ہے۔ یہ مستقل مزاجی سائنسدانوں کو ان تغیرات کو الگ کرنے میں مدد دیتی ہے جو جدید، بدلتے ہوئے ماحول میں ممکن نہیں ہوتا۔
اگرچہ اب آلات بدل چکے ہیں — ہاتھ سے لکھے گئے رجسٹروں کی جگہ سیٹلائٹ امیجنگ اور جینومک سیکوینسنگ نے لے لی ہے — مگر بنیادی سوال وہی ہے: خوراک کی طلب اور زمین کی صلاحیت کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے؟
موسمیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں، پارک گراس کا یہ تجربہ محض ایک تاریخی تجسس نہیں رہا، بلکہ یہ ایک انتباہ ہے۔ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ جن حصوں میں کھاد کا زیادہ استعمال ہوا، وہاں حیاتیاتی تنوع میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زیادہ پیداوار کی دوڑ کا طویل مدتی نقصان زمین کی قدرتی قوتِ مدافعت کی قیمت پر ہوتا ہے۔
اس وقت یہاں کام کرنے والے محققین کے لیے یہ تجربہ ایک ایسی میراتھن ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ وہ صرف گھاس کو نہیں دیکھ رہے، بلکہ وہ اس سست روی سے ہونے والے ردعمل کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں جو انسانی مداخلت کے نتیجے میں ہماری فطرت میں رونما ہو رہا ہے۔
