بحیرہ اسود میں ایک یوکرینی ایف پی وی ڈرون نے روسی بحریہ کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کی خاص بات یہ تھی کہ ڈرون نے اپنے تعاقب میں آنے والے روسی ایم آئی-28 اٹیک ہیلی کاپٹر کی فائرنگ سے بچتے ہوئے ہدف تک رسائی حاصل کی۔
یہ واقعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سمندری جنگ میں اب مہنگے ہتھیاروں کے بجائے سستے اور چست ڈرونز کا پلڑا بھاری ہو رہا ہے۔ ٹینکر اس وقت ایک متنازع آبی گزرگاہ سے گزر رہا تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔ روسی فوج نے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کو فضا میں بلند کیا تاکہ ڈرون کو مار گرایا جا سکے، لیکن ڈرون آپریٹر نے مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کی سطح کے بالکل قریب پرواز کی اور ہیلی کاپٹر کی زد سے باہر نکل گیا۔
ڈرون کے ٹینکر سے ٹکراتے ہی جہاز کے عملے میں بھگدڑ مچ گئی اور انہیں جہاز چھوڑنا پڑا۔
اس واقعے کی فوٹیج، جو منگل کی رات سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، عسکری ماہرین کے لیے حیران کن ہے۔ ایک دفاعی تجزیہ کار کا کہنا ہے، "یہ صرف بارود پہنچانے کا معاملہ نہیں، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈرون آپریٹر اب ہیلی کاپٹر جیسے جدید ہتھیار کو بھی الجھا سکتے ہیں۔”
یہ حملہ روسی بحریہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ماسکو اپنی فرنٹ لائن سپلائی کے لیے انہی ٹینکرز پر انحصار کرتا ہے اور اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ روسی فضائی طاقت ان کے لیے ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوگی۔ اس واقعے نے ثابت کیا ہے کہ یہ ڈھال اب ناکافی ہے۔
روسی کمانڈرز کے لیے اب حکمت عملی بدلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ اگر ایک چھوٹا ڈرون جدید ترین ہیلی کاپٹر کو چکمہ دے سکتا ہے، تو بحیرہ اسود میں روسی رسد کی لائنیں اب کبھی بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔
کریملن کی جانب سے تاحال ٹینکر کو پہنچنے والے نقصان پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، لیکن ایندھن کی ترسیل میں خلل روسی فوج کی پہلے سے دباؤ کا شکار لاجسٹکس کو مزید مشکلات میں ڈالے گا۔ جنگ کے بدلتے ہوئے انداز یہ بتاتے ہیں کہ اب سمندروں پر حکمرانی صرف بڑے جہازوں کی نہیں، بلکہ سب سے پھرتیلے ڈرون کی ہوگی۔
