پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ایک اہم رابطہ کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال، جنگ بندی کی کوششوں اور سفارتی رابطوں پر بات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ کشیدگی کا پائیدار حل صرف بات چیت اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب خطہ غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے اور مختلف ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق، اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے نہ صرف موجودہ حالات کا جائزہ لیا بلکہ امن و استحکام کے لیے رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
اس گفتگو کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ سمجھی جا رہی ہے کہ پاکستان حالیہ دنوں میں خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو محض حالات دیکھنے کے بجائے سفارتی حل کی حمایت کر رہا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف مسلسل یہی رہا ہے کہ خطے میں مزید بگاڑ کسی کے مفاد میں نہیں اور تمام فریقین کو تحمل اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
عباس عراقچی کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ دونوں ممالک صرف رسمی بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ عملی سطح پر مشاورت بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ ایرانی وفد کی پاکستان آمد کو بھی علاقائی امن، استحکام اور تازہ پیش رفت کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات نے بھی اسی سفارتی سلسلے کو تقویت دی۔ پاکستانی قیادت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خطے میں امن کے لیے تصادم نہیں بلکہ مذاکرات ناگزیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی بات چیت کو معمول کا سفارتی رابطہ نہیں بلکہ بڑے علاقائی تناظر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ایران اس کا ہمسایہ ملک ہے، اور مغربی سرحد پر کسی نئی کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑ سکتا ہے۔ یہی پس منظر اسلام آباد کو زیادہ متحرک کردار ادا کرنے پر آمادہ کر رہا ہے۔
فی الحال اس رابطے سے کسی بڑی پیش رفت کا اعلان سامنے نہیں آیا، مگر ایک بات واضح ہے: پاکستان اور ایران دونوں رابطے کھلے رکھنا چاہتے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں یہی شاید سب سے اہم سفارتی اشارہ ہے۔ اسلام آباد کا پیغام بھی صاف دکھائی دیتا ہے — حالات کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو جائیں، آخرکار راستہ مذاکرات ہی سے نکلے گا۔
