بابر اعظم کے گزشتہ چند ماہ کچھ ایسے ہی گزرے ہیں، جیسے کوئی رولرکوسٹر ہو۔ ایک مرحلے پر ان کی فارم، اسٹرائیک ریٹ اور مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھ رہے تھے۔ پھر اچانک منظر بدل گیا، اور وہ ایک بار پھر اسی اعتماد کے ساتھ نظر آئے جس نے انہیں برسوں تک پاکستان کرکٹ کا سب سے معتبر بیٹر بنائے رکھا۔ پی ایس ایل 2026 کے کوالیفائر میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ان کی سنچری نے نہ صرف پشاور زلمی کو فائنل میں پہنچایا بلکہ یہ بھی یاد دلا دیا کہ بابر اعظم کو ابھی اس کہانی سے باہر نہیں لکھا جا سکتا۔
کوالیفائر میں بابر اعظم نے 59 گیندوں پر 103 رنز بنائے، 12 چوکے اور 4 چھکے لگائے، اور پشاور زلمی نے 221 رنز کا بڑا مجموعہ کھڑا کیا۔ بعد میں زلمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 70 رنز سے شکست دے کر 2021 کے بعد پہلی بار پی ایس ایل فائنل میں جگہ بنائی۔ یہ صرف ایک سنچری نہیں تھی، بلکہ دباؤ کے ماحول میں ایک ایسا جواب تھا جو بیٹ سے دیا گیا۔
اس کارکردگی کی اہمیت صرف ایک میچ تک محدود نہیں تھی۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق، فائنل سے پہلے بابر اعظم پی ایس ایل 2026 میں 588 رنز بنا چکے تھے، ان کی اوسط 84.00 اور اسٹرائیک ریٹ 146.26 تھا۔ اسی دوران وہ پی ایس ایل کی تاریخ میں 4,000 رنز مکمل کرنے والے پہلے بیٹر بھی بنے۔ یہ اعداد و شمار اس بحث کا مضبوط جواب تھے جس میں کچھ عرصے سے یہ سوال کیا جا رہا تھا کہ کیا بابر کی پرانی برتری ختم ہو رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بابر نے اپنی اس واپسی کو کسی جذباتی یا ڈرامائی انداز میں بیان نہیں کیا۔ رپورٹوں کے مطابق انہوں نے کہا کہ خود احتسابی، نظم و ضبط اور بنیادی چیزوں پر واپس جانا ان کی کامیابی کی وجہ بنا۔ یہی انداز بابر کی شخصیت سے میل بھی کھاتا ہے۔ شور بہت تھا، تنقید بھی ہوئی، مگر ان کا جواب روایتی انداز میں آیا: خاموشی سے، مگر پوری طاقت کے ساتھ۔
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے: میں اس جملے “Life is like a rollercoaster” کو بابر اعظم کے براہ راست، مصدقہ قول کے طور پر ثابت نہیں کر سکا۔ تاہم ان کی حالیہ کرکٹ کہانی واقعی اسی تشبیہ سے میل کھاتی ہے۔ ایک طرف شدید دباؤ، دوسری طرف زبردست واپسی۔ حالیہ کوریج میں بھی ان کی فارم کو “پرانی مہارت کی واپسی” اور “بیسٹ فارم” جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا۔
اور پھر فائنل نے اس پوری کہانی میں ایک اور موڑ ڈال دیا۔ 4 مئی 2026 کو کھیلے گئے پی ایس ایل فائنل میں بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہوئے، مگر اس کے باوجود پشاور زلمی نے پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے ٹائٹل جیت لیا۔ اس فتح کے ساتھ بابر اعظم نے بطور کپتان اپنا پہلا ٹی20 ٹائٹل بھی جیتا۔ شاید یہی رولرکوسٹر والی کیفیت ہے: ہر موڑ آپ کے حق میں نہیں جاتا، مگر آخر میں منزل پھر بھی آپ کی ہو سکتی ہے۔
بابر اعظم کی یہ کہانی صرف رنز کی نہیں، ردعمل کی بھی ہے۔ جدید کرکٹ میں رائے بہت تیزی سے بدلتی ہے۔ ایک اننگز میں ہیرو، دوسری میں تنقید کا نشانہ۔ مگر بڑے کھلاڑی اکثر ایسے ہی وقت میں اپنی پہچان واپس بناتے ہیں۔ بابر نے بھی یہی کیا۔ پی ایس ایل 2026 میں انہوں نے ثابت کیا کہ اتار چڑھاؤ کھیل کا حصہ ہیں، مگر اصل بات یہ ہے کہ آپ دوبارہ اٹھتے کیسے ہیں۔
