پاکستان بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے دو روز تک جاری رہنے والی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ٹرکوں اور کنٹینرز کی پہیے دوبارہ چل پڑے ہیں۔
ہڑتال کے باعث کراچی پورٹ پر ہزاروں کنٹینرز پھنس گئے تھے، جبکہ ملک بھر میں ایندھن، ادویات اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل شدید متاثر ہوئی۔ ٹرانسپورٹرز نے ہائی ویز پر ٹریفک بلاک کر دی تھی، جس سے ملک کے تجارتی مراکز میں سپلائی چین کا بحران پیدا ہو گیا تھا۔
ایسوسی ایشن کے ترجمان نے مذاکرات کی کامیابی کے بعد کہا کہ حکومت نے مطالبات پر غور کرنے کی تحریری یقین دہانی کرائی ہے۔ "ہمیں 15 دن کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، اگر ٹیکسوں اور لوڈنگ قوانین میں ریلیف نہ ملا تو دوبارہ پہیہ جام کریں گے،” انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا۔
ٹرانسپورٹرز کا بنیادی مطالبہ ٹول ٹیکس میں بے جا اضافے کی واپسی اور ایکسل لوڈ قوانین میں نرمی تھا۔ ان کا موقف تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد موجودہ ٹیکس ریٹ پر کام کرنا ممکن نہیں رہا۔ دوسری جانب حکومت مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے ٹیکسوں پر سمجھوتہ کرنے سے گریزاں تھی۔
کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے مال کی ترسیل کے لیے حکام نے ڈبل شفٹ میں کام شروع کر دیا ہے۔ پورٹ حکام کا کہنا ہے کہ بندرگاہ پر جمع ہونے والے بیک لاگ کو ختم کرنے میں کم از کم 48 گھنٹے درکار ہوں گے۔
اگرچہ سڑکیں کھل گئی ہیں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت بحال ہو چکی ہے، لیکن ٹرانسپورٹرز اور وزارت خزانہ کے درمیان تناؤ بدستور موجود ہے۔ آنے والے دو ہفتے فیصلہ کن ہوں گے کہ کیا حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرتی ہے یا پھر ایک بار پھر ملک کو معاشی تعطل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
