یورپی خلائی ایجنسی نے اپنے منفرد مشن ’پروبا-3‘ کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد خلا میں مصنوعی گرہن پیدا کر کے سورج کے بیرونی کرۂ یعنی ’کرونا‘ کی پیچیدہ طبیعیات کو سمجھنا ہے۔ یہ مشن دو سیٹلائٹس پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی درست فاصلے پر پرواز کریں گے؛ ایک سیٹلائٹ سورج کی روشنی کو روکے گا جبکہ دوسرا اس کے پیچھے چھپے ہوئے کرونا کا مشاہدہ کرے گا۔
سائنسدانوں کے لیے سورج کا اندرونی کرونا برسوں سے ایک معمہ رہا ہے۔ سورج کی اپنی شدید روشنی اس مدھم کرۂ کو دیکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور قدرتی گرہن کے دوران ملنے والا وقت اتنا کم ہوتا ہے کہ مکمل ڈیٹا اکٹھا کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ پروبا-3 اس مسئلے کا حل ہے۔ یہ دونوں سیٹلائٹس ایک دوسرے سے 144 میٹر کے فاصلے پر رہتے ہوئے ایک ایسا ’آرٹیفیشل ایکلپس‘ بنائیں گے جو گھنٹوں تک سورج کے کرونا کو واضح طور پر دکھا سکے گا۔
اس تحقیق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ سورج کا یہ کرونا ہی ’سولر ونڈ‘ (شمسی ہواؤں) کا منبع ہے۔ یہ ہوائیں جب زمین کی طرف آتی ہیں تو ہمارے مواصلاتی نظام، جی پی ایس اور بجلی کے گرڈز کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ یہ ہوائیں کیسے پیدا ہوتی ہیں اور ان کا درجہ حرارت اتنا زیادہ کیوں ہے، تو ہم شمسی طوفانوں کی پیش گوئی کہیں بہتر انداز میں کر سکیں گے۔
اس مشن میں سب سے بڑا چیلنج ’فارمیشن فلائنگ‘ ہے۔ دونوں سیٹلائٹس کو خلا میں ملی میٹر کی درستگی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ چلنا ہوگا۔ ذرا سی بھی غلطی مشن کو ناکام بنا سکتی ہے۔ مشن کے ایک سائنسدان کے مطابق، "ہم ایک ایسی آنکھ بنا رہے ہیں جو سورج کی تپش میں جلے بغیر اس کے اندرونی راز دیکھ سکے گی۔”
پروبا-3 اب ایک بیضوی مدار میں داخل ہو چکا ہے اور اگلے چند ماہ تک اپنے آلات کو ٹیسٹ کرے گا۔ ایک بار جب یہ سیٹلائٹس اپنی پوزیشن پر مکمل طور پر سیٹ ہو جائیں گے، تو دنیا کو ایسی تصاویر اور ڈیٹا ملنا شروع ہو جائے گا جو شاید گزشتہ ایک صدی سے جاری اس بحث کو ختم کر دے کہ کرونا کا درجہ حرارت سورج کی سطح سے کروڑوں گنا زیادہ کیوں ہے۔
یہ مشن محض تصاویر لینے تک محدود نہیں، بلکہ یہ خلائی ٹیکنالوجی میں ایک نئی چھلانگ ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ ہم کیا دیکھ سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس ڈیٹا کی مدد سے زمین پر موجود ٹیکنالوجی کو شمسی طوفانوں کے اثرات سے کتنا محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
