پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر حصوں میں ستمبر تک معمول سے کم بارشیں ہوں گی جبکہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ محکمہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین موسمیاتی ڈیٹا کے مطابق، مون سون کا روایتی سلسلہ اس بار اپنی توقعات کے مطابق برسنے میں ناکام رہے گا۔
یہ صورتحال زرعی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے کسان، جن کی فصلیں ان مہینوں میں نمی کی محتاج ہوتی ہیں، اب شدید خدشات میں گھرے ہیں۔ چاول اور گنے کی فصلوں کو شدید پانی کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ پہلے سے بوسیدہ آبپاشی کا نظام اور بجلی کی قلت اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
شہری مراکز بھی اس گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت بجلی کی کھپت میں اضافے کا باعث بنے گا، جس سے قومی گرڈ پر بوجھ بڑھے گا۔ کراچی اور لاہور جیسے گنجان آباد شہروں میں ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ اثر کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک سینئر افسر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "موجودہ موسمیاتی پیٹرن تاریخی اوسط سے واضح طور پر ہٹ چکے ہیں۔” انہوں نے کسی ایک موسمی واقعے کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے، پورے خطے کے لیے "طویل تھرمل تناؤ” کی تنبیہ کی۔
حکومت کی جانب سے تاحال کسی جامع ہنگامی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔ ماضی میں اس طرح کے خشک موسموں کے نتیجے میں تربیلا اور منگلا جیسے بڑے ڈیموں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے، جس کا براہِ راست اثر پن بجلی کی پیداوار پر پڑتا ہے۔
یہ محض موسم کی خبر نہیں، بلکہ اس معاشی عدم استحکام کی تصویر ہے جس کا سامنا پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہے۔ بارشوں کے بغیر، ملک کی غذائی تحفظ اور توانائی کی فراہمی موسمِ گرما کے اختتام تک ایک نازک توازن پر کھڑی رہے گی۔
