خیبر پختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ مختلف حادثات میں کم از کم 7 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 33 زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ہلاکتوں کی بڑی وجہ مکانات کی چھتیں گرنے کے واقعات ہیں۔ سوات، دیر اور کوہستان جیسے پہاڑی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔
ریسکیو حکام کے لیے دور دراز علاقوں تک رسائی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ راستے بند ہونے کے باعث امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایک مقامی ریسکیو اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "سب سے بڑا مسئلہ دشوار گزار راستے ہیں، بھاری مشینری کو پہاڑی علاقوں تک پہنچانا اس وقت تقریباً ناممکن ہے۔”
پشاور اور مینگورہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کو ہڈیوں کے ٹوٹنے اور دب جانے کی وجہ سے شدید چوٹیں آئی ہیں، جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔
متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے لیے یہ صورتحال ایک بار پھر سر چھپانے کے ٹھکانوں کے خاتمے کا سبب بنی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ مزید چند روز تک جاری رہ سکتا ہے، جس سے پہاڑی علاقوں میں مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
صوبائی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان تو کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مستقل حل نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علاقوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے محفوظ تعمیرات کو یقینی بنایا جائے۔
فی الحال حکام کی تمام تر توجہ ریسکیو آپریشنز پر مرکوز ہے۔ مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بدستور برقرار ہے، اور ہزاروں مکینوں کی نظریں آسمان کی طرف ہیں کہ کب یہ سلسلہ تھمے اور زندگی معمول پر آئے۔
