کراچی: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے غیر متوقع مزاحمت دکھائی اور منگل کے روز بینچ مارک KSE-100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انڈیکس 460 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 85,250 پر بند ہوا۔ ایشیا اور خلیجی منڈیوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ کے خدشات کے باعث فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، تاہم کراچی کے سرمایہ کاروں نے عالمی حالات کے بجائے ملکی معاشی اشاریوں پر توجہ مرکوز رکھی۔ افراطِ زر میں کمی اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں مزید کٹوتی کی توقعات نے مارکیٹ کا مورال بلند رکھا۔
کراچی کے ایک بروکریج ہاؤس کے سینئر ایکویٹی ڈیلر کا کہنا ہے کہ "مارکیٹ فی الحال اپنی داخلی منطق پر چل رہی ہے۔ عالمی سرخیاں بھلے ہی شور مچا رہی ہوں، لیکن مقامی کھلاڑیوں کی نظریں ییلڈ کرو اور صنعتی سرگرمیوں میں بہتری پر ہیں۔ وہ فی الحال سرمایہ نکالنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔”
بینکنگ اور توانائی کے شعبوں نے تیزی کی قیادت کی۔ سرمایہ کاروں نے کمرشل بینکوں میں بھاری سرمایہ کاری کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں مرکزی بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باوجود بینکوں کی منافع بخشی پر اعتماد ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت حکومت کی معاشی استحکام کی کوششیں اب نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں۔
تاہم، عالمی حالات اور مقامی مارکیٹ کی کارکردگی میں یہ فرق عارضی ہو سکتا ہے۔ تیل کی قیمتیں سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اگر عالمی توانائی کی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھے گا، جو اس تیزی کو روک سکتا ہے۔ فی الحال مارکیٹ کا اندازہ یہی ہے کہ بدترین صورتحال ابھی قابو میں ہے۔
غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار، جو مسلسل تین ہفتوں سے خریدار رہے ہیں، منگل کے روز بھی اپنی پوزیشن پر قائم رہے۔ ان کی موجودگی نے انڈیکس کو وہ سہارا فراہم کیا جس کی بدولت جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باوجود پینک سیلنگ سے بچاؤ ممکن ہوا۔
آنے والے دن اس اعتماد کا امتحان ہوں گے۔ اگر KSE-100 انڈیکس 86,000 پوائنٹس کی مزاحمتی سطح کو عبور نہ کر سکا تو منافع خوری کا رجحان واپس آ سکتا ہے۔ لیکن فی الحال، منڈی کے کھلاڑیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی بے یقینی کے بجائے کراچی کے ٹریڈنگ فلور کی حقیقتوں پر داؤ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
