کینیڈا میں اس موسم گرما کے دوران جنگلات میں لگی خوفناک آگ کے باعث اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے ہزاروں افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے گھروں سے محروم ہوئے ہیں، بلکہ انہیں حکومتی سطح پر مواصلاتی نظام کی ناکامی اور ہنگامی امداد کی عدم دستیابی کا بھی سامنا ہے۔
برٹش کولمبیا اور البرٹا کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کا کہنا ہے کہ حکومتی انتظامات صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ کئی متاثرین جب حکام کی ہدایت پر مقررہ ریلیف سینٹرز پہنچے تو وہاں تالے لگے ہوئے تھے، رجسٹریشن کا کوئی عمل موجود نہیں تھا اور انہیں یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا کہ رات کہاں گزاری جائے یا خوراک کا بندوبست کیسے کیا جائے۔
ایک متاثرہ خاتون سارہ جینکنز نے بتایا، "ہمیں بتایا گیا کہ کمیونٹی سینٹر جائیں، ہم چھ گھنٹے تک دھوئیں کے بادلوں میں گاڑی چلاتے رہے۔ رات دو بجے وہاں پہنچے تو دروازے پر ایک پرچہ چسپاں تھا کہ سینٹر بند ہے۔ ہمیں مجبورا گاڑی پیٹرول پمپ پر کھڑی کر کے رات گزارنی پڑی۔”
صوبائی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا نظام بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو سنبھالنے کے لیے تیار کیا گیا تھا اور ہوٹلوں کے ساتھ معاہدے موجود ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق حکومتی دعووں کے برعکس ہیں۔
متاثرین کی ناراضی کی بنیادی وجوہات تین ہیں: مواصلاتی نظام کا ٹھپ ہونا، مالی امداد میں عدم توازن، اور گھر واپسی کے بارے میں غیر واضح پالیسیاں۔ حکومتی ہنگامی ہیلپ لائنز پر مسلسل مصروف ہونے کی وجہ سے لوگ اپ ڈیٹس کے لیے سوشل میڈیا گروپس پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام نے بحرانی صورتحال میں ‘ڈیجیٹل فرسٹ’ پالیسی اپنا کر انسانی پہلو کو نظر انداز کر دیا ہے۔ جب بجلی کا نظام یا موبائل سروس معطل ہوتی ہے، تو یہ ڈیجیٹل حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو جاتی ہے۔
کیملوپس کے قریب ایک خیمہ بستی میں موجود مارک تھامسن نے کہا، "وہ ہمارے ساتھ انسانوں جیسا نہیں، اعدادوشمار جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ اگر آپ کے پاس اسمارٹ فون یا ڈیٹا نہیں ہے، تو حکام کی نظر میں آپ کا وجود ہی نہیں۔”
مالی بوجھ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگرچہ کچھ صوبوں نے یکمشت امداد کا اعلان کیا ہے، لیکن عارضی رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے سامنے یہ رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہو رہی ہے۔ جن لوگوں کے پاس انشورنس نہیں، ان کے لیے مستقبل ایک مالی دلدل کی طرح ہے۔
ایمرجنسی مینجمنٹ کے ترجمانوں نے وعدہ کیا ہے کہ آگ کا سیزن ختم ہونے کے بعد پروٹوکولز کا جائزہ لیا جائے گا۔ فی الحال، وہ ریکارڈ تعداد میں لگی آگ کو بجھانے اور متاثرین سے صبر کی اپیل کر رہے ہیں۔
تاہم، متاثرین کا صبر اب جواب دے رہا ہے۔ عارضی پناہ گاہوں میں رہنے والے افراد اب صرف دھواں چھٹنے کے منتظر نہیں، بلکہ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت بحران کے عروج پر پہنچنے سے پہلے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
