سائنسدانوں کی نئی فوسل تحقیق نے اسکیلیڈوسورس کے بارے میں اہم نئی معلومات فراہم کی ہیں، جو سائنس کو معلوم ہونے والے ابتدائی زرہ بند ڈائنوسارز میں شمار ہوتا ہے۔ تازہ تحقیق سے ماہرینِ قدیم حیاتیات کو اس کی جسمانی ساخت، دفاعی نظام، حرکت اور ابتدائی جراسک دور، تقریباً 19 کروڑ 30 لاکھ سال پہلے، میں اس کے ارتقا کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی ہے۔
محققین نے غیر معمولی طور پر محفوظ فوسل ڈھانچوں کا سی ٹی اسکین، تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈلنگ اور بایو مکینیکل تجزیے کی مدد سے مطالعہ کیا۔ نتائج سے اسکیلیڈوسورس کی ہڈیوں کی ساخت، جسم پر موجود قدرتی بکتر اور اس کے ماحول سے مطابقت کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئیں۔
اسکیلیڈوسورس ایک درمیانے جسامت کا سبزی خور ڈائنوسار تھا، جس کی لمبائی تقریباً 4 میٹر (13 فٹ) تھی۔ یہ زیادہ تر چار مضبوط ٹانگوں پر چلتا تھا اور اس کی جلد میں ہڈیوں سے بنی پلیٹیں اور نوکیلے ابھار موجود تھے، جو اسے شکاری ڈائنوسارز سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کا قدرتی حفاظتی بکتر پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھا اور ممکنہ طور پر بعد میں آنے والے اسٹیگوسورس اور اینکیلوسورس جیسے زره بند ڈائنوسارز کے ارتقا میں ایک اہم مرحلہ ثابت ہوا۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ بھاری حفاظتی بکتر کے باوجود اسکیلیڈوسورس کا جسم کافی حد تک لچکدار تھا، جس کی بدولت یہ آسانی سے حرکت کر سکتا تھا اور زمین کے قریب اُگنے والے پودے، فرن اور دیگر نباتات کھا سکتا تھا۔
فوسل شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ڈائنوسار ساحلی میدانوں اور جنگلاتی علاقوں میں رہتا تھا، جہاں اسے ابتدائی گوشت خور ڈائنوسارز سے خطرہ لاحق رہتا تھا۔ ایسے ماحول میں اس کا مضبوط قدرتی بکتر اس کی بقا کے لیے انتہائی اہم تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ابتدائی جراسک دور میں ڈائنوسارز کے ارتقا کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ اچھی حالت میں محفوظ فوسلز قدیم جانداروں کی زندگی کو سمجھنے کے لیے کتنے قیمتی ہوتے ہیں۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل کی مزید فوسل دریافتیں اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی اسکیلیڈوسورس اور دیگر ابتدائی زره بند ڈائنوسارز کے بارے میں مزید حیرت انگیز راز سامنے لائیں گی۔
