سائنسدانوں نے شارک کے رویّوں اور طرزِ زندگی کے بارے میں اہم نئی معلومات حاصل کی ہیں، جن سے یہ بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے کہ یہ قدیم سمندری شکاری کیسے شکار کرتے ہیں، راستہ تلاش کرتے ہیں، ایک دوسرے سے تعامل کرتے ہیں اور اپنے ماحول کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ رہتے ہیں۔
محققین نے مختلف اقسام کی شارک کا سیٹلائٹ ٹیگز، زیرِ آب کیمروں، صوتی سینسرز اور ڈرونز کی مدد سے طویل عرصے تک مشاہدہ کیا۔ ان کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کے تجزیے سے ہجرت، شکار اور سماجی رویّوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئیں۔
تحقیق کی ایک اہم دریافت یہ ہے کہ کئی شارک اقسام پہلے کے اندازوں سے زیادہ پیچیدہ رویّے رکھتی ہیں۔ اگرچہ شارک کو عموماً تنہا رہنے والا جانور سمجھا جاتا ہے، لیکن بعض اقسام ہجرت، خوراک حاصل کرنے یا افزائشِ نسل کے دوران عارضی گروہوں کی شکل میں بھی دیکھی گئی ہیں، جو ان کے سماجی تعلقات کی بہتر صلاحیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ شارک شکار تلاش کرنے کے لیے اپنی انتہائی تیز حسِ شامہ کے ساتھ ساتھ الیکٹرو ریسیپشن نامی منفرد صلاحیت استعمال کرتی ہیں۔ اس کے ذریعے وہ دوسرے جانداروں کے جسم سے پیدا ہونے والے انتہائی معمولی برقی سگنلز کو بھی محسوس کر سکتی ہیں، حتیٰ کہ گہرے یا دھندلے پانی میں بھی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ سمندری ماحول میں ہونے والی تبدیلیاں، جیسے سمندر کے درجۂ حرارت میں اضافہ اور شکار کی دستیابی میں تبدیلی، شارک کی ہجرت کے راستوں اور شکار کے انداز کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان تبدیلیوں کو سمجھنا سمندری حیات کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔
محققین نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بعض شارک ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرتی ہیں اور سمندری دھاروں، پانی کے درجۂ حرارت اور ممکنہ طور پر زمین کے مقناطیسی میدان کی مدد سے اپنی منزل تک پہنچتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق شارک کی ذہانت، ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت اور سمندری ماحولیاتی نظام میں ان کے اہم کردار کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ سمندر کے اعلیٰ درجے کے شکاری ہونے کے باعث شارک دیگر سمندری جانداروں کی آبادی کو متوازن رکھ کر پورے ماحولیاتی نظام کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں جدید ٹریکنگ ٹیکنالوجی اور مزید تحقیق شارک کے بارے میں مزید حیرت انگیز راز سامنے لائے گی اور ان کے عالمی تحفظ کی کوششوں کو مزید مؤثر بنائے گی۔
