اسلام آباد — فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے منگل کے روز دارالحکومت میں کارروائی کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ اور ویزہ فراڈ میں ملوث پانچ رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا۔ یہ گروہ سادہ لوح شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر کروڑوں روپے بٹور رہا تھا۔
ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے اسلام آباد کے جی سیکٹرز میں واقع ایک رہائشی کمپاؤنڈ پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران ایجنسی نے درجنوں جعلی پاسپورٹ، خلیجی ممالک کے فرضی ورک ویزے اور جعلی دستاویزات تیار کرنے والی جدید پرنٹنگ مشینیں قبضے میں لے لیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق، ملزمان کا ہدف دیہی علاقوں کے کم آمدنی والے افراد تھے۔ گروہ انہیں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں تعمیراتی شعبے میں ملازمتوں کا لالچ دیتا تھا۔ شکار بننے والے افراد سے تین سے پانچ لاکھ روپے تک کی ‘پروسیسنگ فیس’ وصول کی جاتی تھی، جس کے بعد ملزمان روپوش ہو جاتے یا انہیں ایسی جعلی دستاویزات تھما دی جاتیں جو ایئرپورٹ پر پکڑی جاتیں۔
آپریشن میں شامل ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ "یہ گروہ صرف پیسے نہیں لوٹ رہا تھا بلکہ لوگوں کو غیر قانونی راستوں پر ڈال کر ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا تھا۔ ہم تین ماہ سے ان کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ ملزمان سراغ ملنے سے بچنے کے لیے خفیہ میسجنگ ایپس استعمال کرتے تھے، لیکن ایک مقامی منی ٹرانسفر میں ہونے والی غلطی نے ہمیں ان تک پہنچا دیا۔”
گرفتار ہونے والوں میں گروہ کے سرغنہ سمیت پانچ افراد شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ گروہ ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کام کر رہا تھا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں میں موجود ریکروٹرز شکار تلاش کرتے اور کمیشن کاٹ کر باقی رقم اسلام آباد میں موجود مرکزی ملزمان تک پہنچا دیتے تھے۔
یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ملک گیر کریک ڈاؤن تیز کر رکھا ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ موقع سے ملنے والے 15 پاسپورٹس پر جعلی ویزے لگے ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروہ اس ہفتے مزید کئی افراد کو بیرون ملک بھیجنے کی تیاری کر رہا تھا۔
ملزمان کو ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹرز کل عدالت سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کریں گے تاکہ ان کے وسیع نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اس کے تار ٹریول ایجنسیوں کے کچھ حلقوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
جن افراد کو یہ گروہ پہلے ہی لوٹ چکا ہے، ان کے لیے یہ گرفتاریاں فوری مالی ریلیف تو نہیں لائیں گی، تاہم ایف آئی اے اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ اس گروہ کے تیار کردہ جعلی دستاویزات کے ذریعے اب تک کتنے افراد غیر قانونی طور پر بیرون ملک جا چکے ہیں۔
