جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی میں اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں دھرنے دیے جائیں گے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی اب سڑکوں پر آ کر حکومت پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اپنائے گی۔
حکومت کی جانب سے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اس اضافے کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑے گا، جس سے عام آدمی کا بجٹ مزید سکڑ جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے لیوی میں اضافے کو "عوام پر غیر منصفانہ بوجھ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط کو عوام کی بنیادی ضروریات پر ترجیح دے رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ لیوی میں کیا گیا اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
یہ احتجاج صرف پارٹی کارکنوں تک محدود نہیں رہے گا۔ جماعت اسلامی اس بار درمیانے اور نچلے طبقے کے بڑھتے ہوئے غصے کو سیاسی تحریک میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سڑکوں پر دھرنوں کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اپوزیشن اب محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی میدان میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی تیاری کر چکی ہے۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔ حکومت کا استدلال ہے کہ قومی خزانے کی موجودہ صورتحال مزید سبسڈی دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی عوام کے لیے صورتحال سادہ لیکن تکلیف دہ ہے۔ پٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ بھی بڑھتا ہے تو اس کا اثر آٹے، سبزیوں اور کرایوں تک پہنچتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی یہ احتجاجی کال حکومت کے لیے کتنی بڑی دردِ سر بنتی ہے اور کیا سڑکوں پر موجود یہ دباؤ پالیسی میں کسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا یا نہیں۔
