وفاقی حکومت رواں ماہ کے اختتام تک زندگی بچانے والی ضروری ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مارکیٹ میں ادویات کی بے لگام قیمتوں کو روکنا ہے، جس کی وجہ سے عام مریضوں کے لیے بنیادی علاج تک رسائی بھی مشکل ہو چکی ہے۔
وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق قیمتوں کے تعین کے لیے فارمولا تقریباً حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب فارماسیوٹیکل کمپنیاں خام مال کی درآمدی لاگت اور روپے کی قدر میں گراوٹ کا حوالہ دے کر قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ تاہم، حکومت نے ان دباؤ کے باوجود مریضوں کو ریلیف دینے کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈریپ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم انڈسٹری کی بقا اور مریضوں کی قوتِ خرید کے درمیان توازن قائم کر رہے ہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اب مزید ناقابلِ برداشت ہے۔”
نئی قیمتوں کا اطلاق ان ادویات پر ہوگا جو ‘ضروری’ کیٹیگری میں آتی ہیں، جن میں دل کے امراض، انسولین اور اینٹی بائیوٹکس شامل ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافے نے نچلے اور متوسط طبقے کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ادویات ساز کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ اگر قیمتوں کی حد بہت کم رکھی گئی تو بعض ادویات کی پیداوار منافع بخش نہیں رہے گی۔ اس صورتحال میں خدشہ ہے کہ مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کی جا سکتی ہے۔ حکومت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مانیٹرنگ کا ایک سخت نظام ترتیب دیا ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
حقیقی امتحان نوٹیفکیشن کے بعد میڈیکل اسٹورز پر عمل درآمد کا ہوگا۔ ملک میں ادویات کے ریٹیل نیٹ ورک کے بکھرے ہوئے ہونے کی وجہ سے قیمتوں پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج رہے گا۔
وزارت صحت اس ہفتے کے آخر تک ان ادویات کی حتمی فہرست جاری کر دے گی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ حکومتی مداخلت مارکیٹ کو استحکام دیتی ہے یا دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ ایک نئے تنازع کو جنم دیتی ہے۔
