کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسٹمز حکام نے منگل کی شب ایک کارروائی کے دوران 12 کلو گرام اعلیٰ معیار کی چرس برآمد کر لی۔ یہ منشیات بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
کسٹمز انٹیلیجنس کے افسران نے منشیات کو گھریلو سامان کی ایک کھیپ میں مہارت سے چھپایا ہوا پایا۔ یہ کھیپ مشرق وسطیٰ بھیجی جانی تھی۔ منشیات کو ایئرپورٹ کے جدید اسکینرز سے بچانے کے لیے ویکیوم سیل کرکے مختلف تہوں میں پیک کیا گیا تھا، تاہم کارگو ٹرمینل پر معمول کی چیکنگ کے دوران حکام نے مشکوک پیکٹس کی نشاندہی کر لی۔
اس آپریشن سے واقف ایک سینئر کسٹمز افسر نے بتایا کہ "اسمگلرز نے منشیات کی بو اور کثافت کو چھپانے کے لیے دوہری پیکنگ کا طریقہ استعمال کیا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ اسکینرز کو دھوکہ دے دیں گے، لیکن ہماری انٹیلیجنس بیسڈ پروفائلنگ نے انہیں دھر لیا۔”
اس پکڑی گئی کھیپ کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق یہ چرس مقامی نہیں بلکہ درآمد شدہ اور انتہائی طاقتور قسم کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
ٹرمینل پر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی کیونکہ ملزمان کارگو کو ایک تھرڈ پارٹی لاجسٹک فرم کے ذریعے کلیئر کروا چکے تھے۔ کسٹمز حکام اب ان شپنگ دستاویزات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں جو بظاہر ایک فرضی کمپنی کے نام پر جمع کرائی گئی تھیں۔
یہ کارروائی پاکستان کے بڑے ایئرپورٹس پر جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کراچی کسٹمز نے ہوائی اڈے پر نگرانی کے نظام کو مزید سخت کر دیا ہے، جس کا مقصد چھوٹے کوریئرز کے ساتھ ساتھ بڑے کارگو سنڈیکیٹس کا قلع قمع کرنا ہے۔
تفتیشی ٹیمیں اس وقت شپنگ کے ذرائع اور خلیجی ملک میں مقیم وصول کنندہ کا سراغ لگا رہی ہیں۔ فی الحال حکام کی توجہ ان مقامی سہولت کاروں کی شناخت پر ہے جنہوں نے منشیات کو ایئرپورٹ کے ابتدائی حفاظتی حصار سے گزارنے میں مدد کی۔
تحقیقات جاری ہیں، اور حکام کو توقع ہے کہ شپنگ مینی فیسٹ کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کا سراغ لگانے سے نیٹ ورک کے دیگر مہروں تک پہنچنا ممکن ہوگا۔
