کراچی کے مکینوں کو جمعرات سے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر ہنگامی مرمتی کام کے باعث شہر کے مرکزی سپلائی لائن کو جزوی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرمتی کام کا مرکز 72 انچ قطر کی وہ پائپ لائن ہے جس میں گزشتہ کچھ عرصے سے کئی مقامات پر لیکیج کی شکایات تھیں۔ انجینئرز کا کہنا ہے کہ کام کی تکمیل میں کم از کم 24 گھنٹے درکار ہوں گے، جس کے بعد پانی کی بحالی کا عمل مرحلہ وار شروع ہوگا، یعنی کچھ علاقوں میں نلکے دو دن تک خشک رہ سکتے ہیں۔
متاثر ہونے والے علاقوں میں کلفٹن، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی ، صدر اور ضلع جنوبی کے دیگر حصے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع شرقی کے رہائشی علاقوں، خاص طور پر پی ای سی ایچ ایس اور اس کے اطراف میں بھی پانی کے دباؤ میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
واٹر بورڈ کے ایک سینئر افسر نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہمیں ان لیکس کو فوری ٹھیک کرنا ہوگا، ورنہ مرکزی لائن کے مکمل بیٹھ جانے کا خطرہ ہے۔” انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ وقت عوام کے لیے تکلیف دہ ہے، لیکن پرانی لائنوں کی مرمت کو مزید مؤخر کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
شہر کا بوسیدہ انفراسٹرکچر پانی کے بحران کی اصل وجہ ہے۔ کراچی کا بیشتر نیٹ ورک دہائیوں پرانی پائپ لائنوں پر مشتمل ہے جو بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ واٹر بورڈ نے ہسپتالوں جیسے اہم مقامات پر ٹینکرز بھیجنے کا وعدہ کیا ہے، مگر عام شہریوں کو اپنے نجی ذخائر پر ہی انحصار کرنا ہوگا۔
جن علاقوں میں پہلے ہی پانی کی فراہمی معمول سے کم ہے، وہاں اگلے 48 گھنٹے خاصے مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر پانی ذخیرہ کر لیں اور دستیاب سپلائی کو احتیاط سے استعمال کریں۔
پانی کی بحالی کا عمل فوری نہیں ہوگا۔ والوز کھلنے کے بعد بھی سسٹم کو مطلوبہ دباؤ تک پہنچنے میں وقت لگے گا، جس سے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے آخری سرے پر موجود علاقوں کو پانی ملنے میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔
اگر مرمتی ٹیموں کو کام کے دوران کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا تو یہ تعطل ہفتے کے روز تک بھی کھنچ سکتا ہے۔ فی الحال واٹر بورڈ 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن پر قائم ہے، جس کا امتحان پانی کی سپلائی بند ہوتے ہی شروع ہو جائے گا۔
