نیویارک — نیویارک میں مجسمہ آزادی کے قریب ایک چھوٹی کشتی الٹنے سے خاتون اور شیر خوار بچہ ہلاک ہو گئے، جس کے بعد پولیس نے 45 سالہ کشتی کے کپتان کو حراست میں لے لیا ہے۔ حادثہ ہفتے کی سہ پہر 3 بجے کے قریب ہڈسن دریا کے ٹھنڈے پانیوں میں پیش آیا۔
کشتی میں کل 13 افراد سوار تھے، جو اس کی گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے 11 افراد کو بحفاظت پانی سے نکال لیا، تاہم خاتون اور بچے کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ابتدائی تفتیش سے پتا چلتا ہے کہ کشتی تفریحی نوعیت کی تھی اور اتنے زیادہ مسافروں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں تھی۔ پولیس حکام کے مطابق، کشتی میں وزن کا توازن بگڑنے سے وہ پہلے ایک طرف جھکی اور پھر تیز لہروں کے باعث الٹ گئی۔
کپتان، جس کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی، کو لاپرواہی اور غیر محفوظ طریقے سے کشتی چلانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ حکام اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا کپتان کے پاس مسافروں کو لانے لے جانے کا کمرشل لائسنس موجود تھا یا نہیں۔
موقع پر موجود ایک میرین یونٹ کے افسر نے بتایا کہ "یہ بندرگاہ کسی غلطی کی گنجائش نہیں دیتی۔ جب آپ چھوٹی کشتی میں گنجائش سے زیادہ لوگ بھرتے ہیں تو آپ حادثے کو خود دعوت دیتے ہیں۔”
لبرٹی اسٹیٹ پارک کے قریب موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کشتی میں پانی بھرتے ہی افراتفری مچ گئی۔ این وائی پی ڈی اور کوسٹ گارڈ کے پہنچنے سے پہلے نجی کشتیوں نے مدد کی کوشش کی، تاہم تیز لہروں اور پانی میں موجود لوگوں کی بڑی تعداد نے امدادی کارروائیوں کو مشکل بنا دیا۔
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ بھی تحقیقات کا حصہ بن چکا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا کوئی تکنیکی خرابی بھی واقع ہوئی تھی یا نہیں۔ تاہم ابتدائی شواہد انسانی غلطی اور کشتی میں اوور لوڈنگ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
حادثے میں بچ جانے والے مسافروں کو ہائپوتھرمیا (جسمانی درجہ حرارت گرنے) کا سامنا رہا، جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ کپتان کو 24 گھنٹوں کے اندر مین ہیٹن کرمنل کورٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
