برلن — جرمن حکومت نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے تخریب کاری، سائبر حملوں اور جاسوسی کے واقعات میں تیزی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برلن میں حکام اب ان واقعات کو الگ تھلگ حادثات قرار دینے کے بجائے ایک سوچی سمجھی ‘ہائبرڈ وارفیئر’ مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
وزیر داخلہ نینسی فیسر نے اس ہفتے صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جارحیت کی تعریف بدل رہی ہے۔ انٹیلی جنس اداروں کا انتباہ ہے کہ خطرہ اب صرف ڈیجیٹل حدود تک محدود نہیں رہا۔ ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس میں آتشزدگی کے واقعات سے لے کر دفاعی ٹھیکیداروں کو دھمکانے تک، جسمانی تخریب کاری ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔
وفاقی دفتر برائے تحفظ آئین نے غیر ملکی انٹیلی جنس سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جن کا رخ براہ راست ماسکو کی جانب ہے۔ اگرچہ کریملن یورپی ممالک میں تخریب کاری میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، لیکن جرمن سیکیورٹی حکام کا موقف ہے کہ یہ ایک واضح حکمت عملی ہے۔ ان کے مطابق، اس کا مقصد فیصلہ سازی کے عمل کو مفلوج کرنا، یوکرین کے لیے عوامی حمایت کو کمزور کرنا اور معاشرتی انتشار پیدا کرنا ہے۔
عام شہریوں کے لیے یہ خطرہ اب زیادہ محسوس ہونے لگا ہے۔ حالیہ مہینوں میں صنعتی تنصیبات میں پراسرار آتشزدگی اور حساس ٹرانزٹ ہبز کے قریب تخریب کاری کی کوششیں دیکھی گئی ہیں۔ اگرچہ اب تک کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن خلل ڈالنے کا ارادہ واضح ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نچلی سطح کی کارروائیوں کا مقصد ریاست کو مسلسل دفاعی پوزیشن پر رکھنا اور وسائل کو ضائع کرنا ہے۔
برلن نے اس کے جواب میں اہم تنصیبات کی سیکیورٹی کو سخت کر دیا ہے۔ ہوائی اڈوں، ریل نیٹ ورکس اور پاور گرڈز پر حفاظتی پروٹوکول بڑھا دیے گئے ہیں، جبکہ انٹیلی جنس ایجنسیاں جرمن حدود میں کام کرنے والے غیر ملکی عناصر کی سخت نگرانی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تاہم، اصل چیلنج یہ ہے کہ ایک کھلے معاشرے کو ایسے دشمن سے کیسے محفوظ رکھا جائے جو امن اور روایتی جنگ کے درمیان ‘گرے زون’ میں کارروائیاں کر رہا ہے۔
حساس انٹیلی جنس امور پر بات کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم خطرات کی ایک نئی نوعیت دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف ہیکنگ نہیں، بلکہ ہمارے اداروں پر موجود عوامی اعتماد کو توڑنے کی کوششیں ہیں۔”
جیسے جیسے جرمنی اس مسئلے پر یورپی سطح پر متفقہ ردعمل کے لیے زور دے رہا ہے، وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اب سوال صرف تکنیکی دفاع کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا جرمنی ایک ایسی طویل المدتی اور کثیر الجہتی مہم کا مقابلہ کر سکتا ہے جس کا واحد مقصد ملک کے عزم کو اندر سے ختم کرنا ہے۔
