اسلام آباد: اسلام آباد کی سیشن عدالت نے منگل کو نوجوان سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کے قتل کیس میں عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔ سترہ سالہ ثنا یوسف کو گزشتہ سال 2 جون کو اسلام آباد میں ان کے گھر کے اندر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے فیصلہ سناتے ہوئے عمر حیات کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 بی کے تحت قتلِ عمد کا مجرم قرار دیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اس کی توثیق ضروری ہوگی۔
عدالت نے مجرم کو مقتولہ کے قانونی ورثا کو 25 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے دیگر دفعات کے تحت بھی سزائیں سنائیں، جن میں ڈکیتی اور مسروقہ مال سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ یہ سزائیں بیک وقت چلیں گی۔
ثنا یوسف کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر قتل کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی نشاندہی کی گئی اور عمر حیات کو فیصل آباد سے تقریباً 20 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔ اس قتل نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر پیدا کر دی تھی۔
عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق عمر حیات نے پہلے مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اعترافی بیان ریکارڈ کرایا تھا، جس میں مبینہ طور پر اس نے ثنا کے ساتھ یکطرفہ جنون اور قتل کے حالات بیان کیے۔ تاہم فیصلے سے ایک روز قبل اس نے اپنا بیان واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے سوشل میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے غلط طور پر مقدمے میں پھنسایا گیا۔
ثنا یوسف سوشل میڈیا پر ایک معروف نام تھیں۔ وہ ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر روایتی لباس، روزمرہ زندگی اور ثقافتی رنگوں پر مبنی مواد شیئر کرتی تھیں۔ عالمی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ثنا چترالی موسیقی اور لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بھی آواز اٹھاتی تھیں۔ قتل سے چند گھنٹے پہلے انہوں نے اپنی سالگرہ سے متعلق ایک تصویر بھی پوسٹ کی تھی۔
فیصلے کے بعد ثنا کے والدین نے عدالت کے باہر اطمینان کا اظہار کیا۔ ثنا کے والد یوسف حسن نے کہا کہ خاندان اس دن کا 11 ماہ سے انتظار کر رہا تھا۔ ان کے بقول یہ فیصلہ صرف ان کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ہے۔ ثنا کی والدہ فرزانہ نے عدالت، پولیس، وکلا اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔
ثنا یوسف کا قتل پاکستان میں خواتین کے تحفظ، آن لائن ہراسانی اور کم عمر لڑکیوں کے خلاف تشدد پر ایک بار پھر بحث کا باعث بنا۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے اس واقعے کی مذمت کی تھی اور ملزم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
قانونی طور پر مجرم کے پاس اپیل کا حق موجود ہے، جبکہ سزائے موت پر عمل درآمد اسلام آباد ہائی کورٹ کی توثیق سے مشروط ہے۔ تاہم ثنا کے خاندان کے لیے منگل کا فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں اہم موڑ ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
