پشاور — خیبر پختونخوا میں جاری موسلادھار بارشوں نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بارش سے جڑے مختلف حادثات میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔
زیادہ تر ہلاکتیں چھتیں گرنے کے واقعات میں ہوئیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر متوقع بارشوں نے کچے اور بوسیدہ مکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے رہائشیوں کو بروقت انخلا کا موقع بھی نہیں مل سکا۔
زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
انسانی نقصان کے علاوہ انفراسٹرکچر بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کئی گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے درجنوں خاندان کھلے آسمان تلے آ گئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے ضلعی حکام کو ہدایت کی ہے کہ نقصانات کا تخمینہ فوری طور پر لگایا جائے تاکہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کا عمل شروع کیا جا سکے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب صوبے کا کمزور تعمیراتی ڈھانچہ شدید موسم کی تاب نہ لا سکا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں تعمیراتی قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ہر برس بارشوں کے دوران ایسے حادثات معمول بن چکے ہیں۔
صوبائی حکومت نے تمام ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے بعد شمالی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بالخصوص پہاڑی علاقوں میں نقل و حرکت کے دوران احتیاط برتیں۔
