اسلام آباد: پاکستان کے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر مشاورت کے دوران صوبوں پر 400 ارب روپے سے زائد اضافی ٹیکس آمدن پیدا کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے، جب کہ یہ ہدف وفاقی حکومت کے اُس بڑے مالیاتی فریم ورک کا حصہ ہے جو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے کیا جا رہا ہے۔ تازہ رپورٹنگ کے مطابق صوبوں کو نئے مالی سال میں اپنی محاصل بڑھانے کے لیے الگ الگ اہداف دیے گئے ہیں۔
اس معاملے کی بنیاد صرف سیاسی مشاورت نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی دستاویزی شرطیں بھی ہیں۔ فنڈ کی تازہ اسٹاف رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ FY27 میں صوبائی بجٹ سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں مزید 0.3 فیصد پوائنٹس کا اضافہ متوقع ہے۔ پاکستانی میڈیا اور پالیسی حلقے اسی ہدف کو عملی طور پر تقریباً 400 سے 430 ارب روپے کے اضافی محاصل کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔
صوبہ وار تقسیم میں سب سے بڑا بوجھ سندھ پر ڈالا گیا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سندھ سے تقریباً 200 ارب روپے اضافی آمدن کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ پنجاب کے لیے لگ بھگ 175 ارب روپے، خیبر پختونخوا کے لیے قریب 45 ارب روپے اور بلوچستان کے لیے تقریباً 20 ارب روپے کا ہدف زیر بحث ہے۔ یہی تقسیم اس وقت بجٹ مذاکرات کا مرکزی نکتہ بنی ہوئی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ یہ رقم آئے گی کہاں سے۔ تازہ رپورٹس اور آئی ایم ایف دستاویزات کے مطابق صوبوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ خاص طور پر زرعی آمدن ٹیکس، خدمات پر جی ایس ٹی، پراپرٹی سے متعلق ٹیکسوں، اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس میں بہتری لائیں۔ آئی ایم ایف نے بھی اپنی رپورٹ میں صوبائی ریونیو بڑھانے کے لیے جی ایس ٹی آن سروسز کے دائرہ کار میں توسیع اور زرعی آمدن ٹیکس کی مؤثر وصولی پر زور دیا ہے۔
زرعی ٹیکس اس پوری بحث کا سب سے حساس حصہ دکھائی دیتا ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ بڑا ہے، مگر اس شعبے سے مؤثر ٹیکس وصولی بہت کم رہی ہے۔ فنڈ نے نشاندہی کی ہے کہ 2025 میں زرعی آمدن ٹیکس کی شرحیں بڑھانے کے باوجود اصل چیلنج عمل درآمد اور انفورسمنٹ ہے، کیونکہ کئی جگہ متوقع آمدن وصول نہیں ہو سکی۔ اس لیے نئی بجٹ مشاورت میں صوبوں پر زور صرف نئے اعلانات کے لیے نہیں بلکہ پرانے فیصلوں کی حقیقی وصولی کے لیے بھی ہے۔
یہ دباؤ ایک وسیع تر مالیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ آئی ایم ایف کی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاق اور صوبوں دونوں سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانے کی توقع ہے، تاکہ پاکستان اپنے مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھ سکے اور پروگرام اہداف پورے کر سکے۔ اسی تناظر میں حکومت اور فنڈ کے درمیان آئندہ بجٹ کا فریم ورک زیادہ سخت، زیادہ ریونیو مرکوز اور سیاسی طور پر زیادہ مشکل بنتا جا رہا ہے۔
مختصر یہ کہ لفظ شاید “urges” استعمال ہو رہا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک نرم مشورہ کم اور سخت مالیاتی سمت زیادہ لگتی ہے۔ آئندہ بجٹ میں صوبوں کو ایسے شعبوں سے محاصل نکالنے ہوں گے جو برسوں سے کم ٹیکس شدہ یا کم نگرانی والے رہے ہیں۔ اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ صوبے سیاسی مزاحمت کے باوجود ان اہداف کو محض کاغذی وعدہ نہیں بلکہ حقیقی وصولی میں بدل پاتے ہیں یا نہیں۔
