وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صنعتوں کے لیے تقریباً 200 ارب روپے کا امپورٹ ڈیوٹی ریلیف دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پیداواری لاگت کم کرنا، صنعتوں کو سہارا دینا اور برآمدی شعبے کی مسابقت بہتر بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ریلیف حکومت کے پانچ سالہ ٹیرف ریفارم پلان 2025-30 کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہو گا۔ اس منصوبے کے تحت ہزاروں ٹیرف لائنز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
اس پالیسی کا بنیادی خیال یہ ہے کہ اگر خام مال، مشینری اور صنعتی inputs کی درآمد سستی ہو جائے تو مقامی صنعتوں کی لاگت کم ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی صنعت پہلے ہی مہنگی بجلی، بلند شرح سود، ٹیکسوں کے بوجھ اور علاقائی مقابلے کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں امپورٹ ڈیوٹی میں کمی کئی شعبوں کے لیے کچھ حد تک ریلیف ثابت ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے 1,948 سے زائد ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی حد کم کر کے زیادہ سے زیادہ 20 فیصد کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس وقت بعض اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی حد 50 فیصد تک ہے، جبکہ گزشتہ بجٹ میں اسے 90 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کیا گیا تھا۔
ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی میں بھی کمی متوقع ہے۔ مجوزہ پلان کے مطابق 518 ٹیرف لائنز پر 2 فیصد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی ختم کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح 2,166 ٹیرف لائنز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد، جبکہ 465 ٹیرف لائنز پر 6 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
کسٹمز ڈیوٹی کے نظام کو بھی نسبتاً آسان اور کم بوجھل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جن شعبوں میں ڈیوٹیز بہت زیادہ ہیں، وہاں شرحیں کم کی جا سکتی ہیں۔ آٹو موبائل سیکٹر سمیت بعض high-duty شعبوں میں بھی مجموعی ڈیوٹی کم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
صنعتی حلقوں نے اس ممکنہ ریلیف کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کے مطابق درآمدی خام مال اور مشینری پر کم ڈیوٹی سے فیکٹریوں کی لاگت کم ہو گی، پیداوار بہتر ہو سکتی ہے اور پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں زیادہ مقابلہ کر سکیں گی۔
تاہم، عام صارفین کے لیے قیمتوں میں کمی فوری یا یقینی نہیں ہو گی۔ پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ڈیوٹی کم ہونے کے باوجود اس کا مکمل فائدہ صارف تک نہیں پہنچتا۔ روپے کی قدر، ٹرانسپورٹ لاگت، ڈیلر مارجن، ٹیکس اور مارکیٹ حالات حتمی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
حکومت کے لیے یہ فیصلہ آسان بھی نہیں۔ امپورٹ ڈیوٹی کم کرنے سے سرکاری آمدنی میں کمی آ سکتی ہے، جبکہ پاکستان کو پہلے ہی سخت مالی اہداف، ٹیکس وصولیوں اور بجٹ خسارے کے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس لیے حکومت کو صنعت کو ریلیف دینے اور آمدنی برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہو گا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ریلیف واقعی خام مال، مشینری اور برآمدی صنعتوں تک پہنچتا ہے تو اس کے مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ لیکن اگر فائدہ صرف تاجروں، درآمد کنندگان یا محدود protected sectors تک رہ گیا تو پالیسی کا اثر کمزور ہو جائے گا۔
مجموعی طور پر 200 ارب روپے کا مجوزہ امپورٹ ریلیف حکومت کی صنعتی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ ہے۔ اسلام آباد بظاہر زیادہ حفاظتی ٹیرف سے ہٹ کر ایسی پالیسی کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں صنعت کو سستا input ملے، پیداوار بڑھے اور برآمدات کو سہارا مل سکے۔ اصل امتحان بجٹ اعلان کے بعد شروع ہو گا، جب یہ دیکھا جائے گا کہ ریلیف کاغذوں سے نکل کر فیکٹریوں اور معیشت تک کتنا پہنچتا ہے۔
