نیویارک — فیفا ورلڈ کپ 2026 کے قریب آتے ہی شمالی امریکہ بھر میں سکیورٹی حکام نے اپنی فضائی دفاعی حکمت عملی کو ہنگامی بنیادوں پر تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ منتظمین کو اب صرف ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ یا ہجوم کے کنٹرول کی فکر نہیں، بلکہ سب سے بڑا چیلنج عام دستیاب سستے ڈرونز ہیں، جو اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین یا کھلاڑیوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے 16 شہروں میں پھیلے اس ٹورنامنٹ کی سکیورٹی تاریخ میں اپنی نوعیت کا مشکل ترین آپریشن ہے۔ وہ اسٹیڈیم جو کل تک صرف داخلی راستوں پر تلاشی تک محدود تھے، اب جدید ترین ‘کاؤنٹر یو اے ایس’ (C-UAS) سسٹمز نصب کر رہے ہیں۔ ان سسٹمز کا کام بغیر اجازت اڑنے والے ڈرونز کو شناخت کرنا، ٹریک کرنا اور ضرورت پڑنے پر انہیں ناکارہ بنانا ہے، وہ بھی اس طرح کہ اسٹیڈیم میں موجود لاکھوں شائقین میں خوف و ہراس نہ پھیلے۔
سکیورٹی کے امور پر کام کرنے والے ایک مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ٹیکنالوجی ضوابط سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ آج 500 ڈالر میں ملنے والا ڈرون بھی ایسے پے لوڈ لے جانے کے قابل ہے جو مقامی پولیس کے لیے ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے۔ اب یہ معاملہ صرف کسی ملک کی مداخلت کا نہیں رہا، بلکہ ایک تنہا شخص بھی کسی ذاتی دشمنی کی بنا پر بڑی تباہی پھیلا سکتا ہے۔”
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) توقع کے مطابق تمام میزبان اسٹیڈیمز کے اوپر ‘نو ڈرون زون’ نافذ کرے گی، جیسا کہ سپر باؤل کے دوران کیا جاتا ہے۔ تاہم، اصل مسئلہ ان قوانین پر عمل درآمد کا ہے۔ امریکہ میں ڈرون سگنل جیم کرنے والی ٹیکنالوجی پر سخت پابندیاں ہیں کیونکہ اس سے ایمرجنسی سروسز اور مقامی مواصلاتی نظام کے متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
مقامی پولیس فورسز فی الحال پورٹیبل ڈیٹیکشن گیئر استعمال کرنے کی تربیت لے رہی ہیں۔ یہ آلات ڈرون کے ریموٹ کنٹرول کی ریڈیو فریکوئنسی کو پکڑ کر آپریٹر کے مقام کا فوری سراغ لگا سکتے ہیں۔ لیکن پائلٹ تک پہنچنا آدھی جنگ ہے۔ اگر ڈرون پہلے ہی اسٹیڈیم کی طرف بڑھ رہا ہو، تو ردعمل کے لیے وقت صرف چند سیکنڈز کا ہوتا ہے۔
ٹورنامنٹ کا جغرافیائی پھیلاؤ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ٹورنٹو، لاس اینجلس اور میکسیکو سٹی کا فضائی ماحول ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ میکسیکو سٹی کے ‘ایستادیو ازتیکا’ (Estadio Azteca) کے ارد گرد گنجان آباد شہری علاقے روایتی ریڈار کی فعالیت کو ناممکن بناتے ہیں۔ اس کے برعکس، امریکی اسٹیڈیمز کے وسیع و عریض پارکنگ لاٹس میں سینسرز لگانا تو آسان ہے لیکن وہاں زمین سے ہونے والی مداخلت کا خطرہ زیادہ ہے۔
فیفا روایتی طور پر سکیورٹی کی ذمہ داری میزبان ممالک پر ڈالتا آیا ہے۔ 2026 کے لیے ایک سہ فریقی ٹاسک فورس بنائی گئی ہے تاکہ سکیورٹی پروٹوکولز کو یکساں بنایا جا سکے۔ اس سب کے باوجود، مقامی میونسپل حکام پر دباؤ ہے کہ وہ وفاقی انٹیلی جنس اور زمینی حقائق کے درمیان موجود خلیج کو پر کریں۔
فضائی حدود کو محفوظ بنانے میں ناکامی نہ صرف کھلاڑیوں اور شائقین کی جان کو خطرے میں ڈالے گی، بلکہ یہ کسی بھی تخریب کار کے لیے ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم فراہم کر سکتی ہے جس کا ازالہ بعد میں ممکن نہیں ہوگا۔ جیسے جیسے افتتاحی میچ کی تاریخ قریب آ رہی ہے، سکیورٹی اداروں کی کوشش ہے کہ دنیا کے اس سب سے بڑے کھیلوں کے میلے میں آسمان ان کے کنٹرول میں رہے۔
