کراچی: پاکستان کے صنعت کاروں اور تاجر رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ بلند شرح سود کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار مہنگے قرضوں کے باعث شدید دباؤ میں آ گئے ہیں۔
یہ تشویش اس وقت سامنے آئی ہے جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 27 اپریل 2026 کو پالیسی ریٹ 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا۔ مرکزی بینک کے مطابق یہ فیصلہ مہنگائی کے خطرات، توانائی کی قیمتوں، فریٹ چارجز اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیا گیا۔
تاہم کاروباری برادری اس فیصلے کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہی ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے کہا ہے کہ مہنگا قرض صنعتی ترقی کی رفتار کم کر دے گا۔ ان کے مطابق جب بینک فنانسنگ مہنگی ہوتی ہے تو صنعتیں توسیعی منصوبے روک دیتی ہیں، خام مال کی خریداری متاثر ہوتی ہے اور پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے شرح سود میں اضافے کو “غیر مناسب وقت” پر کیا گیا فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے کاروباری اعتماد متاثر ہوگا۔ کراچی چیمبر نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ بلند شرح سود نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گی اور کاروباروں کے لیے مسابقت برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
برآمدی شعبہ خاص طور پر پریشان ہے۔ صنعت کار پہلے ہی بجلی اور گیس کے بلند نرخوں، ٹیکسوں کے بوجھ، ریفنڈز میں تاخیر اور پالیسی کے عدم تسلسل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں مہنگی بینک فنانسنگ پیداواری لاگت کو مزید بڑھا دیتی ہے، جس کا براہِ راست اثر برآمدی آرڈرز پر پڑتا ہے۔
ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، لیدر، اسپورٹس گڈز اور فوڈ پروسیسنگ جیسے شعبوں کے لیے یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے، کیونکہ خطے کے کئی حریف ممالک اپنے برآمد کنندگان کو نسبتاً سستی فنانسنگ اور بہتر پالیسی سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، یعنی ایس ایم ایز، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ کاروبار عموماً خام مال، تنخواہوں اور روزمرہ اخراجات کے لیے قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کرتے ہیں۔ شرح سود میں اضافہ ان کے منافع کو کم کر دیتا ہے، اور کئی کاروباروں کے لیے کام جاری رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کا مؤقف ہے کہ مہنگائی کی توقعات اب بھی حساس ہیں، اس لیے مانیٹری پالیسی میں احتیاط ضروری ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، شپنگ لاگت اور سپلائی چین میں کسی بھی جھٹکے کا اثر مقامی مہنگائی پر پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف بھی پاکستان کی سخت مانیٹری پالیسی کو معاشی استحکام کے لیے اہم قرار دیتا رہا ہے۔
لیکن صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ صرف استحکام کافی نہیں۔ معیشت کو روزگار، برآمدات اور سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر شرح سود طویل عرصے تک بلند رہی تو کاروبار نئے منصوبے شروع کرنے سے گریز کریں گے، مشینری کی درآمد رکے گی، پیداوار کم ہوگی اور ملازمتوں کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔
حکومت اور اسٹیٹ بینک کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ مہنگائی کو قابو میں رکھتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں کو کیسے سہارا دیا جائے۔ صنعت کار شرح سود میں بتدریج کمی، پیداواری شعبوں کے لیے ہدفی فنانسنگ اور کاروباری لاگت کم کرنے کے واضح روڈ میپ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
فی الحال کاروباری برادری کا پیغام صاف ہے: مالیاتی نظم و ضبط ضروری ہے، مگر اس کی قیمت صنعتی ترقی، روزگار اور برآمدات کی قربانی نہیں ہونی چاہیے۔
