سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نجی رہائش گاہ ‘مار-اے-لاگو’ کے بال روم میں جاری تعمیراتی کام پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے بدھ کے روز عدالتِ عظمیٰ میں ایک ہنگامی درخواست دائر کی جس میں نچلی عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت پام بیچ میں واقع ان کی اسٹیٹ پر تعمیراتی کام روک دیا گیا تھا۔
تنازع کی جڑ 2023 میں پام بیچ ٹاؤن کونسل کا وہ فیصلہ ہے جس میں بال روم کی توسیع کو مقامی ضابطوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔ ٹاؤن انتظامیہ کا موقف ہے کہ 1993 کے معاہدے کے تحت اس پراپرٹی کو صرف ایک نجی کلب کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ تجارتی تقریبات کے مرکز کے طور پر۔ دوسری جانب ٹرمپ کے وکلاء کا استدلال ہے کہ مقامی حکام پرانے قوانین کا سہارا لے کر ان کے کاروباری مفادات کو نشان زد کر رہے ہیں۔
ٹرمپ آرگنائزیشن کے لیے یہ معاملہ صرف تعمیرات کا نہیں بلکہ مالیاتی مسابقت کا ہے۔ بال روم ان کی سیاسی فنڈ ریزنگ اور اعلیٰ سطح کی تقریبات کا اہم مرکز ہے۔ اس جگہ کو جدید بنانا ان کے لیے مارکیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے برعکس، پام بیچ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام علاقے کے رہائشی کردار اور تاریخی حیثیت کو محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
نچلی عدالتیں اب تک ٹاؤن کونسل کے حق میں فیصلے دیتی رہی ہیں۔ 11 ویں یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے ٹرمپ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں انہوں نے اپیل کے دوران تعمیراتی کام جاری رکھنے کی استدعا کی تھی۔ اب معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے ہے، جہاں ٹرمپ نے موقف اختیار کیا ہے کہ مقامی ریگولیٹرز ان کے جائیداد کے حقوق اور منصفانہ سلوک کے آئینی حق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
ایک میونسپل سطح کے تنازع کا ملک کی سب سے بڑی عدالت تک پہنچنا غیر معمولی ہے۔ تاہم، یہ ٹرمپ کی قانونی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں وہ ہر تنازع کو آخری حد تک لے جانے پر یقین رکھتے ہیں۔
پام بیچ حکام نے تاحال اس نئی درخواست پر کوئی باضابطہ ردِعمل نہیں دیا، تاہم وہ اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ کلب کو علاقے کے دیگر جائیداد مالکان کی طرح قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔
اگر سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت سے انکار کیا تو تعمیراتی کام غیر معینہ مدت تک معطل رہے گا۔ اگر عدالت نے ٹرمپ کے حق میں حکم امتناعی جاری کر دیا تو نچلی عدالتوں میں مقدمہ چلنے کے باوجود تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہو سکے گا، جو سابق صدر کے لیے ایک اہم تزویراتی کامیابی ہوگی۔
