اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں برآمدات پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ اگر حتمی شکل اختیار کر گیا تو برآمدی شعبے، خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری، کو تقریباً 100 ارب روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ صرف یہ ایک قدم کافی نہیں ہوگا، کیونکہ اصل مسئلہ کاروباری لاگت، پھنسے ہوئے ریفنڈز اور ورکنگ کیپٹل کی کمی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تجویز بجٹ تیاریوں کے دوران زیرِ غور محدود اقدامات کا حصہ ہے۔ برآمد کنندگان ایک عرصے سے شکایت کر رہے ہیں کہ ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ان کی نقد رقم روک لیتا ہے، جبکہ منافع کی شرح پہلے ہی کم ہے اور ریفنڈز کی ادائیگی میں تاخیر معمول بن چکی ہے۔
پاکستان بزنس کونسل نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ برآمدی آمدن پر ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس واپس لیا جائے۔ کونسل کے مطابق یہ ٹیکس برآمد کنندگان کے ورکنگ کیپٹل کو حکومت کی فنانسنگ میں منتقل کر دیتا ہے، جو وزیراعظم کے برآمدات پر مبنی ترقی کے ایجنڈے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ٹیکسٹائل سیکٹر اس وقت سب سے زیادہ دباؤ میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے وزیراعظم کو بھیجی گئی تجاویز میں کہا ہے کہ ہر 100 ارب روپے کی برآمدات پر تقریباً 20 ارب روپے جی ایس ٹی اور ایڈوانس انکم ٹیکس کی شکل میں کٹ یا بلاک ہو جاتے ہیں، جس سے کمپنیوں کے پاس خام مال خریدنے، آرڈرز پورے کرنے اور پیداواری عمل جاری رکھنے کے لیے نقد رقم کم رہ جاتی ہے۔
صنعتی حلقوں کا مطالبہ صرف ایک فیصد ٹیکس کے خاتمے تک محدود نہیں۔ وہ فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی، ریفنڈز کی تیز ادائیگی، توانائی کی لاگت میں کمی، سپر ٹیکس کے خاتمے اور آڈٹ کے دباؤ میں کمی چاہتے ہیں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے بھی بجٹ تجاویز میں سپر ٹیکس ختم کرنے، ٹرن اوور ٹیکس کم کرنے، سیلز ٹیکس میں کمی اور ٹیرف اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت کے لیے مشکل یہ ہے کہ ریلیف دینے کی گنجائش محدود ہے۔ آنے والا بجٹ ایسے وقت تیار ہو رہا ہے جب پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام، قرضوں کی ادائیگی، توانائی کے شعبے کے نقصانات اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے دباؤ کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برآمدی شعبے کو کسی بڑے پیکیج کے بجائے محدود اور ہدفی ریلیف ملنے کا امکان زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
ادھر بجٹ کا پارلیمانی عمل بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے 5 جون 2026 کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس طلب کر لیے ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس شام 5 بجے اور سینیٹ کا اجلاس شام 6 بجے ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق بجٹ کی باقاعدہ پیشی جون کے دوسرے ہفتے تک جا سکتی ہے۔
اگر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم ہو جاتا ہے تو برآمد کنندگان کو فوری طور پر کچھ سانس لینے کی جگہ ضرور ملے گی۔ مگر صاف بات یہ ہے کہ صنعت اسے مکمل حل نہیں سمجھے گی۔ برآمدات کو واقعی سہارا دینا ہے تو حکومت کو ریفنڈز، توانائی نرخوں، پالیسی کے تسلسل اور ٹیکس نظام کی پیچیدگی پر بھی ہاتھ ڈالنا پڑے گا۔
فی الحال یہ تجویز اس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام آباد برآمدی شعبے کی بے چینی کو سمجھ رہا ہے۔ اصل امتحان مگر بجٹ دستاویز آنے کے بعد ہوگا، جب پتا چلے گا کہ حکومت نے صرف علامتی ریلیف دیا ہے یا واقعی برآمدی صنعت کو دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔
