اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی، یعنی ای سی سی، کا رکن بنا دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد حکومت کی اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کو وفاقی سطح پر معاشی فیصلوں کے ایک بڑے فورم میں براہِ راست نمائندگی مل گئی ہے۔
ای سی سی کی سربراہی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کرتے ہیں۔ یہ کمیٹی ملک کے فوری معاشی، مالی اور انتظامی نوعیت کے اہم معاملات کا جائزہ لیتی ہے، جن میں سبسڈیز، ضمنی گرانٹس، توانائی، خوراک کے ذخائر، سرکاری اداروں سے متعلق فیصلے اور دیگر مالی منظوریوں جیسے امور شامل ہوتے ہیں۔
خالد مقبول صدیقی کی شمولیت سیاسی طور پر بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان اس وقت وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتوں میں شامل ہے اور ماضی میں کراچی سمیت شہری سندھ کے مسائل، ترقیاتی فنڈز، روزگار، تعلیم اور بلدیاتی اختیارات کے حوالے سے مسلسل آواز اٹھاتی رہی ہے۔ ای سی سی میں نمائندگی سے جماعت کو ان پالیسی مباحثوں تک رسائی ملے گی جہاں مالی اور معاشی نوعیت کے کئی اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اس وقت وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ہیں۔ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما بھی ہیں اور مئی 2024 میں انہیں پارٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔
یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت کو معاشی دباؤ، آئی ایم ایف سے جڑے اصلاحاتی ایجنڈے، توانائی کی قیمتوں، سبسڈیز اور سرکاری اخراجات جیسے مشکل معاملات کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ای سی سی کے فیصلے صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اثرات بھی رکھتے ہیں۔
حکومتی حلقوں میں اس پیش رفت کو اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے لیے یہ موقع ہو گا کہ وہ کراچی اور شہری علاقوں سے متعلق اپنے مطالبات کو ایک مؤثر حکومتی فورم پر زیادہ واضح انداز میں پیش کرے۔
اگرچہ ای سی سی میں شمولیت کا مطلب یہ نہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان کے تمام مطالبات فوری طور پر منظور ہو جائیں گے، لیکن یہ ضرور ہے کہ اب پارٹی کی آواز معاشی پالیسی سازی کے ایک اہم مرحلے پر براہِ راست سنی جا سکے گی۔
