جنرز نے پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں کم قیمت ظاہر کر کے درآمد کیے جانے والے چینی کپڑے کی بڑھتی ہوئی آمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل سے مقامی ٹیکسٹائل اور کاٹن انڈسٹری پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
جنرز کے مطابق چینی کپڑے کو مبینہ طور پر اس کی اصل مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت پر ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث کم کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کر کے یہ مصنوعات ملک میں داخل ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے درآمد شدہ کپڑے کو غیر منصفانہ فائدہ حاصل ہو رہا ہے اور مقامی صنعت کے لیے مقابلہ کرنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔
جنرز نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں کم قیمت چینی کپڑے کی بڑھتی ہوئی دستیابی سے مقامی طور پر تیار ہونے والی ٹیکسٹائل مصنوعات کی طلب متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر کم قیمت ظاہر کر کے درآمدات کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے مقامی پیداوار، کاروبار اور پاکستان کی کاٹن ویلیو چین کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس معاملے نے قومی خزانے کو ممکنہ محصولات کے نقصان کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگر درآمد شدہ اشیا کی قیمت جان بوجھ کر کم ظاہر کی جائے تو حکومت کو ان پر لاگو ہونے والی مکمل کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس وصول نہیں ہو پاتے۔
جنرز نے درآمدی دستاویزات کی سخت نگرانی، کسٹمز ویلیوایشن کے نظام میں بہتری اور کم قیمت ظاہر کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی صنعت کا تحفظ ضروری ہے، تاہم درآمدات کی درست دستاویزات اور اصل مالیت کے مطابق ٹیکس وصولی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، عالمی مسابقت اور کاٹن سے متعلق صنعت کو درپیش مختلف مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
