اسلام آباد: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بھاری پیٹرولیم لیوی عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں، جبکہ پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز بھی شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ یہ ردِعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی عام آدمی کے بجٹ پر گہرا اثر ڈال رہی ہیں۔
تنازعے کا اصل مرکز قیمت میں شامل وہ ٹیکس اور لیویز ہیں جو ہر لیٹر کے ساتھ صارف سے وصول کی جا رہی ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اپریل کے آخر میں حکومت نے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی تقریباً 27 روپے بڑھا کر 80 روپے سے 107.38 روپے فی لیٹر کر دی، جبکہ دیگر محصولات اور چارجز شامل کیے جائیں تو پیٹرول پر مجموعی ٹیکس بوجھ تقریباً 135 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر تنقید سب سے زیادہ ہو رہی ہے، کیونکہ عوامی حلقوں کے نزدیک اصل بوجھ عالمی منڈی سے زیادہ مقامی ٹیکس پالیسی نے بڑھایا ہے۔
پی پی ڈی اے کا مؤقف یہ ہے کہ مسئلہ صرف صارف تک محدود نہیں رہا۔ ڈیلرز پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ موجودہ مارجن کے ساتھ کاروبار چلانا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اپریل میں ڈیلرز نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کا مارجن انوائس قیمت کے 8 فیصد کے برابر کیا جائے، کیونکہ موجودہ تقریباً 8 روپے فی لیٹر منافع بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات، تنخواہوں، یوٹیلیٹی بلوں اور بینکاری کٹوتیوں کے مقابلے میں ناکافی ہے۔
ڈیلرز کی شکایت صرف حسابی نہیں، عملی بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور کارپوریٹ فیول کارڈز پر بینک چارجز الگ پڑتے ہیں، جس سے فی لیٹر کمائی مزید سکڑ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مختلف تنظیمیں بار بار یہ کہتی رہی ہیں کہ اگر کمیشن میں اضافہ نہ کیا گیا تو ملک بھر میں پمپ بند کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتوں کا بحران صرف عوامی غصے کا معاملہ نہیں، سپلائی چین کے استحکام کا مسئلہ بھی بنتا جا رہا ہے۔
حکومت کے لیے مشکل یہ ہے کہ ایندھن کی قیمت میں اضافہ صرف پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوں تو ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، صنعتی لاگت اور روزمرہ نقل و حرکت سب متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لیوی میں اضافہ سیاسی طور پر بھی حساس بن چکا ہے۔ حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے، اور اب وکلا تنظیمیں اور ڈیلرز ایک ہی سمت میں بات کر رہے ہیں کہ ریاست نے مالیاتی ضرورت پوری کرنے کے لیے عوامی برداشت کی حد کو نظر انداز کیا ہے۔
حکومت کا مؤقف عمومی طور پر یہ رہا ہے کہ محصولات اور لیویز مالی دباؤ، توانائی شعبے کی ضروریات اور ریاستی ریونیو اہداف سے جڑی ہوئی ہیں۔ مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر آمدن بڑھانے کا بوجھ بار بار پیٹرولیم مصنوعات پر ڈالا جائے گا تو اس کا سیدھا اثر مہنگائی اور کاروباری لاگت پر پڑے گا۔ موجودہ بحث اسی نکتے پر آ کر رکتی ہے: کیا حکومت ریونیو بچا رہی ہے، یا معیشت کے نچلے درجے پر موجود لوگوں کو مزید دباؤ میں دھکیل رہی ہے۔
فی الحال پی پی ڈی اے اور ایس سی بی اے کا پیغام واضح ہے۔ ان کے نزدیک ایندھن کی قیمتوں اور بھاری لیوی کا سلسلہ اب محض معاشی پالیسی نہیں رہا، بلکہ ایک سماجی اور کاروباری بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اگر حکومت نے لیوی، قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور ڈیلرز کے مارجن پر نظرِ ثانی نہ کی، تو یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
