شٹلینڈ سے 80 میل مغرب میں واقع برطانیہ کے سب سے بڑے غیر دریافت شدہ تیل کے ذخیرے ‘روزبینک’ کے لیے عوامی مشاورت کا مرحلہ جمعرات کو مکمل ہو گیا۔ یہ منصوبہ طویل عرصے سے ماحولیاتی کارکنوں اور حکومتی پالیسی سازوں کے درمیان تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 300 ملین بیرل تیل کے تخمینہ شدہ ذخائر کے حامل اس منصوبے کی قیادت نارویجن کمپنی ‘ایکوینور’ کر رہی ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ یہ برطانیہ کی توانائی کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔
ماحولیاتی گروپوں اور سائنسدانوں نے مشاورت کے آخری گھنٹوں تک شدید احتجاج جاری رکھا۔ ان کا موقف ہے کہ نئے ڈرلنگ منصوبوں کی منظوری برطانیہ کے اپنے ہی ‘نیٹ زیرو’ اہداف اور عالمی ماحولیاتی وعدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی واضح وارننگ ریکارڈ پر موجود ہے کہ اگر دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات سے بچنا ہے تو نئے تیل اور گیس کے کنوؤں کی کھدائی فوری طور پر روکنا ہوگی۔
برطانوی حکومت اس وقت دوہرے دباؤ میں ہے۔ ایک جانب صنعت کاروں کا اصرار ہے کہ مقامی پیداوار سے عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ پر انحصار کم ہوگا، جبکہ دوسری جانب اتنے بڑے پیمانے پر کاربن کے اخراج کا باعث بننے والے منصوبے کو ہری جھنڈی دکھانے کی سیاسی قیمت بڑھتی جا رہی ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ روزبینک کو ‘الیکٹریفائیڈ’ کیا جائے گا تاکہ آپریشنل اخراج کو کم رکھا جا سکے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دلیل ناقص ہے کیونکہ اصل مسئلہ اس تیل کے جلنے سے خارج ہونے والا کاربن ہے، جو اس حساب کتاب میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ یہیں سے اختلاف کی اصل لکیر گزرتی ہے۔
اب گیند ‘نارتھ سی ٹرانزیشن اتھارٹی’کے کورٹ میں ہے۔ حکام کو عوامی مشاورت کے دوران جمع ہونے والی آراء اور تکنیکی اعداد و شمار کا جائزہ لینا ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ معاشی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں یا ماحولیاتی پاسداری کو۔
ایبرڈین میں موجود آف شور سیکٹر کے ہزاروں ملازمین کی نظریں اس فیصلے پر جمی ہیں۔ انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر روزبینک کو روکا گیا تو یہ بحیرہ شمالی میں سرمایہ کاری کے خاتمے کا اشارہ ہوگا، جس سے برطانیہ طویل مدت کے لیے غیر ملکی سپلائی پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
مشاورت کا عمل ختم ہو چکا ہے، اب فیصلہ وزیر توانائی کے دفتر سے آنا ہے۔ حکومت نے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، لیکن جس طرح کے سیاسی اور ماحولیاتی حالات ہیں، حکومت کے لیے اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف برطانیہ کی توانائی پالیسی کا رخ متعین کرے گا، بلکہ یہ بھی واضح کرے گا کہ حکومت کے لیے عالمی موسمیاتی وعدوں کی کیا اہمیت ہے۔
