گوائیڈر، ویلز — بحر اوقیانوس کی لہروں کو کسی ریس کے وقت سے کوئی غرض نہیں۔ ویلز کی گوائیڈر ایسٹوری (گھائی) میں منعقد ہونے والی سالانہ جونیئر ریگاٹا (کشتی رانی کا مقابلہ) میں پانی ہی وہ فیصلہ کن عنصر ہے جو حکمت عملی اور کامیابی کا تعین کرتا ہے۔
یہاں جمع ہونے والے نوجوان ملاحوں کے لیے یہ مقابلہ صرف ٹرافی جیتنے کا نام نہیں، بلکہ قدرت کے مزاج کو سمجھنے کا امتحان ہے۔ جیسے ہی شمالی سمندر کا پانی تنگ چینل میں داخل ہوتا ہے، لہروں کی رفتار ایک ہلکے بہاؤ سے بدل کر چھ ناٹ کی طاقتور لہر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جو ملاح اس ریاضی کو نہیں سمجھتے، وہ سٹارٹنگ بوائے تک پہنچنے سے پہلے ہی کیچڑ والے کناروں کی جانب بہہ جاتے ہیں۔
مقامی یوتھ اکیڈمی کی کوچ سارہ جینکنز، جو دو دہائیوں سے نوجوانوں کو تربیت دے رہی ہیں، کہتی ہیں: "آپ یہاں صرف دوسرے بچوں سے نہیں لڑ رہے، بلکہ وقت اور جغرافیے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ اگر آپ نے دس منٹ کی تاخیر بھی کی، تو لہریں آپ کے لیے مقابلے کے دروازے بند کر دیتی ہیں۔”
یہ ریگاٹا خطے کی کشتی رانی کی اکیڈمیوں کے لیے ایک اہم تجربہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قومی یوتھ اسکواڈز کے اسکاؤٹس ساحل پر موجود ہوتے ہیں، جو ان ملاحوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو دباؤ میں بھی اپنے اعصاب پر قابو رکھ سکیں۔ انہیں ایسے ملاحوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اچانک آنے والی تیز ہواؤں یا کشتی کے رک جانے کی صورت میں بھی گھبرائے بغیر صورتحال کو سنبھال سکیں۔
اس سال حالات خاصے مشکل رہے۔ مغرب سے چلنے والی تیز ہواؤں نے آنے والی لہروں سے ٹکرا کر سمندر میں ایسی بے چینی پیدا کی کہ چھوٹی کشتیاں کسی واشنگ مشین میں موجود چیز کی طرح ڈولنے لگیں۔ ابتدائی مرحلے میں ہی کئی کشتیاں الٹ گئیں، جس کے بعد ریسکیو ٹیموں کو فوری حرکت میں آنا پڑا۔
ان تمام خطرات کے باوجود، نوجوانوں کا حوصلہ دیدنی تھا۔ 14 سالہ کیلم تھورن نے، جس نے فائنل میں برتری حاصل کی، انتہائی پرسکون انداز میں کشتی چلائی۔ وہ لہروں سے لڑنے کے بجائے ریت کے کناروں کے پیچھے بننے والے چھوٹے بھنوروں کا فائدہ اٹھا کر اپنی کشتی کو آگے بڑھاتا رہا، جبکہ اس کے حریف مرکزی لہروں کے خلاف جدوجہد کرتے رہے۔
ریس کے بعد کیلم نے کہا: "کامیابی کا راز یہ جاننے میں ہے کہ کب جارحانہ انداز اپنانا ہے اور کب پانی کو اپنا کام کرنے دینا ہے۔”
دنیا کے کئی حصوں میں کشتی رانی ایک مہنگا اور اشرافیہ کا کھیل سمجھا جاتا ہے، لیکن ویلز کے اس گوشے میں یہ ایک اجتماعی روایت ہے۔ مقامی خاندان کئی ماہ لگا کر پرانے مستولوں کی مرمت اور بادبانوں کو ٹھیک کرتے ہیں، تاکہ 19ویں صدی کے ماہی گیروں کی یہ روایت زندہ رہے۔
جب سورج پہاڑیوں کے پیچھے غروب ہوا، تو آخری کشتی کو ساحل پر کھینچ لیا گیا۔ سمندر کی لہریں دور جا چکی تھیں، اور پیچھے صرف گیلی ریت کا ایک وسیع میدان رہ گیا تھا۔ کل صبح جب پانی دوبارہ واپس آئے گا، تو یہ مقابلہ پھر شروع ہو جائے گا۔ ان ملاحوں کے لیے، لہروں کے خلاف یہ دوڑ کبھی ختم نہیں ہوتی۔
