پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے منگل کی رات جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد پٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر کی نفسیاتی حد کے انتہائی قریب پہنچ گئی ہے۔
عام شہری کے لیے اس اضافے کا مطلب سادہ ہے: سفری اخراجات ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین ردوبدل کے تحت پٹرول کی قیمت میں 9 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دوسری بار کیا گیا ہے، جس نے نچلے اور متوسط طبقے کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
وزارت خزانہ کا موقف ہے کہ یہ اقدامات آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ حکام کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کے بعد حکومت کے پاس سبسڈی دینے کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔
پٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم دراصل عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا بوجھ صارفین پر منتقل کر رہے ہیں۔ موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا مطلب مزید بھاری قرضے لینا ہے، جس کی اب سکت نہیں رہی۔”
اس فیصلے کا اثر فوری طور پر سڑکوں پر نظر آ رہا ہے۔ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں خودکار طریقے سے اضافہ شروع ہو چکا ہے۔ نجی گاڑیوں کے مالکان غیر ضروری سفر ترک کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ لاجسٹک کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی ترسیل مہنگی ہونے سے مہنگائی کی نئی لہر آئے گی۔
یہ محض پمپ پر قیمت کا معاملہ نہیں ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران یہ تیسرا اضافہ ہے۔ حکومت کی حکمت عملی کا دارومدار پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے ذریعے ٹیکس وصولی پر ہے، جو بجٹ خسارے کو پورا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔
دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے۔ آزاد تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت سپلائی چین کو بہتر بنائے اور سرکاری تیل کمپنیوں کی کارکردگی کو درست کرے، تو عوام پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ملک بھر کے تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس پر ہو چکا ہے۔ پٹرول کی قیمت 400 روپے کے ہندسے کو چھونے کو تیار ہے، جس نے معاشی دباؤ کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
